Select Language  
Alumni Login
Password
Forgot Password
Alumni Sign UP
Your E-mail Address:

About University

Committee

Education

Syllabus

Libraries

Departments

Schools

Other Services

Help Us

عالمِ تصور ميں جب بريلي كے تاج دار امام احمد رضا كا خاكه ابھرتا هے تو دل و دماغ عشقِ رسول كي خوشبو سے مهك اٹھتے هيں اور هر طرف علم و فن كي قنديليں جگمگا اٹھتي هيں۔ ايك سو سے زياده علوم و فنون پر قريب ايك هزار كتابيں لكھنا كسي فردِ واحد كا كام نهيں۔ ان كي ذات فردِ واحد ميں انجمن در انجمن تھي۔ ان كي زندگي كے جس رخ كو نگاه اٹھا كر ديكھيے، وه علم و فضل اور كردار و اخلاق كے بلند قامت مرد كامل نظر آتے هيں۔ان كے علم و حكمت كي سر پٹكتي موجوں سے هزاروں نهريں نكليں، جن كي علمي آب كاريوں سے عرب و عجم شاداب و سرشارهو گئے۔ وه سراپا جمال اور ان كا هر كردار پيكرِ اخلاق تھا ۔ ان كي محفليں علم و عشق سے لبريز رهتي تھيں۔ ان كي حيات كا هر گوشه اخلاقِ نبوي عليه الصلوٰۃ والتسليم كا پرتوِ جمال تھا ، جو ان سے ايك بار ملاقات كر ليتا بار بار ملاقات كا شوقِ فراواں لے كر اٹھتا۔ وه گاليوں كا جواب بھي مسكراهٹوں كے پھولوں سے دينے كا هنر جانتے تھے ۔ غيروں نے ان كا تعارف شدت پسند كي حيثيت سے كرايا، مگر يه ان كي نظر كا فرق تھا ۔ غيروں نے جس وصف كو تشدد سے تعبير كيا ، وه ان كا تصلب في الدين تھا۔ دشمنانِ رسول كے خلاف شدت برتنا ايمان كا تقاضابھي تھا اور اخلاق كا داعيه بھي ۔ ان كي اقليمِ حيات ميں منافقت اور مداهنت كے ليے كوئي جگه نهيں تھي۔


امام احمد رضا اپنے آقا مدني تاج دار صلي الله عليه وسلم كے سچے غلام اور پكے وفادار تھے۔ انھوں نے اپنے آقا كي سنتوں سے كبھي سر مو انحراف نهيں كيا۔ وه كاروبارِ حيات سے لے كر محراب و منبر تك شريعت و طريقت كے پابند رهتے تھے ۔ جس كي آنكھوں ميں اخلاقِ نبوي كي تصويريں تيرتي هوں وه كبھي ترش رو نهيں هو سكتا، جو نبيِ رحمت كي اداوں كا داعي هو ، كبھي شدت پسند نهيں هو سكتا۔ وه سراپا انسانيت تھے، حقوقِ انساني كي ادائيگي ان كا طرهامتياز تھا ، تواضع و انكساري ان كا وصفِ جميل تھا۔ ان كي دل آويز زندگي كا مطالعه كيجيے ، محبت هي محبت نظر آئے گي ۔ در اصل عام طور پر ان كي علمي خدمات پر لكھا گيا ، ان كے رد بدعات و منكرات كو موضوعِ سخن بنايا گيا ۔ گستاخانِ رسول كے خلاف ان كي تنقيدات و تعاقبات كو عنوانِ قلم بنايا گيا، اس ليے ان كي نرم خوئي اور منكسر المزاجي پردهخفا ميں چلي گئي۔ غيروں كو بھي انھيں شدت پسند كي حيثيت سے بد نام كرنے كا خوب موقع ملا، جس كے نتيجے ميں ان كي فكر و شخصيت شدت پسندي كي علامت بن كر ره گئي۔ حالاں كه يه ايك عظيم جمالياتي فكر كي حامل بلند اخلاق شخصيت كے ساتھ نا انصافي هے۔


يه ايك زميني حقيقت هے كه هر بلند شخصيت كے مختلف جهات هوتے هيں اور يه هوتا رها هے كه بعض حالات كے تقاضے شخصيت كے بعض اهم پهلووں كو نظر انداز كر ديتے هيں۔ امام احمد رضا كے دور سے لے كر آج تك دشمنانِ رسول كا رد بڑا حساس موضوع رها هے۔ امام احمد رضا كے فكر و قلم نے اس رخ پر بڑا اهم اوركليدي كردار ادا كيا هے ۔ ناموسِ رسالت كے تحفظ كے ليے ان كا قلم هميشه بيدار اور برق بار رها هے۔اس ليے اس ميدان ميں ان كي سخت گيري تو خوب مشتهر هوئي، مگر ان كي حيات كے انسانيت نواز اور اخلاقي پهلو پس ديوار چلے گئے۔ اخلاص و للهيت، اخلاق و تقويٰ، ايثار و وفا، خدمتِ خلق، حسنِ سلوك، غريبوں كي غم گساري، اعزه و اقارب كي صله رحمي، مريضوں كي عيادت، بڑوں كي تعظيم، چھوٹوں پر شفقت، احباب و تلامذه پر بارشِ كرم، سائلوں پر جود و سخا جيسے اوصاف و كمالات ان كي دل كش حيات كے درخشاں پهلو هيں۔ اخلاقيات كے ان دل آويز گوشوں پر آپ نے زندگي بھر لكھا بھي اور اپني زندگي ميں ان پر عمل بھي كر كے دكھايا۔ نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم كي زندگي اخلاقيات كے هر پهلو كي تكميل كے ليے ايك جامع دستور العمل هے ۔ ايك بندهمومن كو پيكرِ اخلاق هونے كے ليے يه كافي هے كه اس كي زندگي عشقِ رسول كے سوزِ دروں سے لبريز اور اتباعِ رسول سے عبارت هو اور سچي بات يه هے كه كامل اطاعت گهري محبت هي كا نتيجه هوتي هے ۔ محبت كے بغير اطاعت بے كيف اور بے رنگ نظر آتي هے۔


ذاتي اوصاف و خصائل پر ايك نظر: امام احمد رضا قدس سره كي نشست و برخاست اور رفتار و گفتار سنتِ رسول صلي الله عليه وسلم كے سانچے ميں ڈھلي هوئي تھي، نرم خوئي اور تواضع و انكساري ان كے ايك ايك عمل ميں نماياں تھي۔ ان كي عادات و خصائل پر نگاه ڈالنے كے بعد يه سوچا بھي نهيں جا سكتا كه ان كے مزاج ميں شدت رهي هوگي۔به قول سيد ايوب علي:٫٫اكثر اوقات ايسا هوا كه ميں اور برادرم قناعت علي پھاٹك سه دري كے اندر كام كر رهے هيں اور اعليٰ حضرت كاشانهاقدس سے باهر تشريف لائے اور پورا صحن بيروني نشست گاه طے فرما كر خود تقديم سلام فرمائي، تب هم لوگ خبر دار هوئے۔٬٬


انھيں كا بيان هے كه ايك پاوں دوسرے پاوں كے زانو پر ركھ كر بيٹھنے كو ناپسند فرماتے، چوں كه كمر ميں هميشه درد رها كرتا تھا ، اس ليے گاوتكيه پشتِ مبارك كے پيچھے ركھا كرتے تھے، اس سے پيش تر كه يه مرض نهيں تھا ، كبھي گاوتكيه استعمال نه فرمايا۔ كتب بيني يا لكھتے وقت پاوں مبارك سميٹ كر دونوں زانو اٹھائے رهتے، ورنه سيدھا زانوے مبارك اٹھا رهتا اور دوسرا بچھا رهتا، اور كبھي باياں زانو ضرورتاً اٹھاتے تو داهنا بچھا ليا كرتے تھے، ذكرِ ميلادِ مبارك ميں ابتدا سے آخر تك ادباً دو زانو بيٹھے رها كرتے ، يوں هي وعظ فرماتے، چار پانچ گھنٹے كامل دو زانو هي منبر شريف پر رهتے۔


جناب سيد ايوب علي كا بيان هے كه امام احمد رضا كي بعض عادات كريمه يه بھي تھيں كه به شكل نام اقدس ﴿محمد﴾ صلي الله عليه وسلم استراحت فرمانا، ٹھٹھا نه لگانا، جمائي آنے پر انگلي دانتوں ميں دبا لينا اور كوئي آواز نه هونا، كلي كرتے وقت دست چپ ريشِ مبارك پر ركھ كرخميده سر هو كر پاني منه سے گرانا، قبله كي طرف رخ كر كے كبھي نه تھوكنا، نه قبله كي طرف پاے مبارك دراز كرنا ، نمازِ پنج گانه مسجد ميں با جماعت ادا كرنا، فرض نماز با عمامه پڑھنا۔﴿حيات اعليٰ حضرت، ص:92﴾


حياتِ اعليٰ حضرت ميں انھيں كا بيان هے كه حضور كي غذا زياده سے زياده ايك پيالي شوربا بكري كا بغير مرچ كے اور ايك يا ڈيڑھ  بسكٹ سوجي كا اور وه بھي روزانه نهيں بلكه بسا اوقات ناغه بھي هوتا۔ هفته ميں دو بار جمعه اور سه شنبه كو ملبوسات شريف تبديل كرتے تھے ، هاں اگر پنج شنبه كو يومِ عيدين يا يوم النبي اگر پڑے تو دونوں دن لباس تبديل فرماتے يا شنبه كے دن يه مبارك تقريبيں آتيں، تب بھي دونوں دن تبديل فرماتے۔ ان دونوں تقريبوں كے علاوه سوا يوم معين كے اوركسي وجه سے لباس تبديل نه فرماتے۔


تواضع و انكساري: امام احمد رضا عجز و انكسار كے بھي پيكر تھے ۔ جناب سيد ايوب علي كا بيان هے كه ايك مرتبه پيلي بھيت شريف حضرت مولانا  وصي احمد محدث سورتي قدس سره العزيزكے عرس سراپا قدس سے واپسي صبح كي گاڑي سے هوئي۔ حضور نے اس وقت اسٹيشن پر آكر وظيفه كي صندوقچي حاجي كفايت الله صاحب سے طلب فرمائي، كسي نے جلدي سے آرام كرسي ويٹنگ روم سے لا كر بچھا دي۔ ارشاد فرمايا، يه تو بڑي متكبرانه كرسي هے ۔ جتني دير تك وظيفه كيا آرام كرسي كے تكيه سے پشت مبارك نه لگائي۔﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:107﴾


حضرت سيد شاه اسماعيل حسن مياں كا بيان هے كه حضرت جد امجد سيدنا شاه بركت الله قدس سره العزيز كا عرس شريف ميرے والد صاحب قدس سره نهايت اهتمام و انتظام اور اعليٰ پيمانے پر كيا كرتے تھے ، اس ميں بار ها حضرت مولانا بھي تشريف لاتے اور ميرے اصرار سے بيان بھي فرمايا، مگر اس طرح كه حاضرين مجلس سے فرماتے هيں:


٫٫ابھي اپنے نفس كو وعظ نهيں كهه پايا دوسروں كو وعظ كے كيا لائق هوں۔ آپ حضرات مجھ سے مسائل شرعيه دريافت فرمائيں، ان كے بارے ميں جو حكمِ شرعي ميرے علم ميں هوگا﴿چوں كه بعد سوال اسے ظاهر كر دينا حكمِ شريعت هے﴾ ميں ظاهر كر دوں گا۔٬٬ ﴿حيات اعليٰ حضرت ، مطبوعه مكتبه نبويه، لاهور، ص:106﴾


 
اساتذهكرام كا ادب و احترام: امام احمد رضا قدس سره نے جن اساتذهكرام سے تعليم حاصل كي ان كا بے پناه ادب و احترام كرتے، خود امام احمد رضا نے اساتذه كي تعظيم و تكريم كے تعلق سے جو كچھ تحرير فرمايا وه پڑھنے سے تعلق ركھتا هے۔ امام احمد رضا اساتذه كي تعظيم كے حوالے سے ايك سوال كا جواب ديتے هوئے رقم طراز هيں:


       
٫٫عالمگيري ميں و نيز امام حافظ الدين كروري سے هے، : امام زند ويستي نے فرمايا،عالم كا حق جاهل اوراستاذ كا شاگرد پر يكساں هے، اور وه يه هے كه اس سے پهلے بات نه كرے، اور اس كے بيٹھنے كي جگه اس كے غيبت ميں بھي نه بيٹھے، اور چلنے ميں اس سے آگے نه بڑھے۔ اسي ميں غرائب سے هے:ينبغي للرجل ان يراعي حقوق استاذه  و آدابه لا يفتن بشيمن ماله٬٬آدمي كو چاهيے كه اپنے استاذ كے حقوقِ واجب كا لحاظ ركھے، اپنے مال ميں كسي چيز سے اس كے ساتھ بخل نه كرے، يعني جو كچھ اسے دركار هوبه خوشي خاطر حاضر كرے اور اس كو قبول كر لينے ميں اس كا احسان اور اپني سعادت جانے۔ اسي ميں تاتار خانيه سے هے: استاذ كے حق كو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں كے حق سے مقدم ركھے، اور جس نے اسے اچھا علم سكھايا اگرچه ايك هي حرف پڑھايا هو ، اس كے ليے تواضع كرے اور لائق نهيں كه كسي وقت اس كي مدد سے باز رهے، اپنے استاذ پر كسي كو ترجيح نه دے ، اگر ايسا كرے گا تو اس نے اسلام كے رشتوں سے ايك رسي كھول دي۔ استاذ كي تعظيم سے هے كه وه اندر هو اور يه حاضر هوا تو اس كے دروازے پر هاتھ نه مارے، بلكه اس كے باهر آنے كا انتظار كرے۔


       
علما فرماتے هيں جس سے اس كے استاذ كو كسي طرح ايذا پهنچے وه علم كي بركت سے محروم رهے گا اور اگر اس كے احكام واجبات شرعيه هيں تو ظاهر هے كه ان كا لزوم دوباره هو گيا اور اس كي نافرماني صريح راه جهنم هے۔﴿ملخصاً فتاويٰ رضويه ج:9،ص:6768﴾


امام احمد رضا كي يه تحرير تعظيم استاذ كے تعلق سے انتهائي جامع اور ايمان افروز هے۔ اسلام ميں استاذ كا مقام والدين كريمين سے بھي زياده هے۔ آپ اس سے اندازه كر سكتے هيں كه امام احمد رضا اپنے اساتذه كي بارگاه كے كتنے ادب شناس هوں گے۔ ابتدائي كتابوں كے بعد امام احمد رضا نے ميزان و منشعب و غيره حضرت مولانا مرزا غلام بيگ سے پڑھيں۔ امام احمد رضا بآں فضل و كمال ان كا بے حد ادب و احترام كرتے ، ان كي هر بات پر سرِ تسليم خم كرتے۔ حضرت مولانا ظفر الدين رضوي تحرير فرماتے هيں:٫٫ايك زمانے ميں جناب مرزا صاحب كاقيام كلكته امرتا لين ميں تھا، وهاںسے اكثر سوالات جواب طلب بھيجا كرتے۔ فتاويٰ رضويه ميں اكثر استفتا ان كے هيں۔ انھيں كے ايك سوال كے جواب ميں اعليٰ حضرت نے رسالهمباركه٫٫تجلي اليقين بان نبينا سيد المرسلين٬٬ تحرير فرمايا۔اعليٰ حضرت ان كي بات بهت مانا كرتے تھے، جب كوئي اهم كام سمجھا جاتا تو لوگ حضرت مرزا مرحوم كو سفارشي لاتے، ان كي سفارش كبھي رائگاں نهيں جاتي تھي۔ اعليٰ حضرت ان كا بهت زياده خيال فرماتے اور وه جو كچھ عرض كرتے ان كو قبول فرماتے۔ بڑے صاحب تقويٰ اور اعليٰ حضرت كے فدائي اور جاں نثار تھے۔ ﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:9697﴾


عام طور پر ديكھا جاتا هے كه تلامذه جب بهت قابل اور مشهور هو جاتے هيں تو اپنے ابتدائي اساتذه كو خاطر ميں نهيں لاتے۔ مرزا صاحب امام احمد رضا كے ابتدائي استاذ تھے بلكه وه بعد ميں امام احمد رضا سے مسائل بھي دريافت كرتے تھے مگر اس كے باوجود امام احمد رضا كا رويه ان كے ساتھ ايك شاگردهي كي طرح رها۔ يه امام احمد رضا كا كمالِ اخلاق اور حد درجه تواضع و انكساري تھي۔


 
والدين كريمين كي تعظيم و تكريم: استاذ الاساتذه حضرت مولانا نقي علي خاں بريلوي عليه الرحمه امام احمد رضا كے والد ماجد بھي تھے اور استاذ گرامي بھي ۔ آپ كے دل ميں ا ن كا جو اعليٰ مقام تھا ، اسے قيدِ تحرير ميں نهيں لايا جا سكتا ، امام احمد رضا شهرت و مقبوليت كي بلنديوں پر پهنچنے كے باوجود اپنے والد ماجد كي بے پناه تعظيم و تكريم فرماتے۔ اسي طرح والده ماجده كي بھي بے حد تعظيم و تكريم كرتے اور ان كے هرحكم پر سرِ نياز خم كرتے۔حضرت مولانا حسنين رضا بريلوي كا بيان هے:٫٫اعليٰ حضرت قبله حضرت حجۃ الاسلام كو گھر كے ايك دالان ميں پڑھانے بيٹھتے۔ وه پچھلا سبق سن كر آگے سبق ديتے تھے ۔ پچھلا سبق جو سنا تو وه ياد نه تھا، اس پر ان كو سزا دي۔ اعليٰ حضرت كي والده محترمه جو دوسرے دالان كے كسي گوشے ميں تشريف فرما تھيں، انھيں كسي طرح اس كي خبر هو گئي۔ وه حضرت حجۃ الاسلام كو بهت چاهتي تھيں، غصه ميں بھري هوئي آئيں اور اعليٰ حضرت قبله كي پشت پر ايك دو هنڑ مارا اور فرمايا تم ميرے حامد كو مارتے هو۔ اعليٰ حضرت فوراً جھك كر كھڑے هو گئے اور اپني والده محترمه سے عرض كياكه اماں اور ماريے جب تك كه آپ كا غصه فرو نه هو، يه كهنے كے بعد انھوں نے ايك دو هنڑ مارا، اعليٰ حضرت سر جھكائے كھڑے رهے ، يهاں تك كه وه خود واپس تشريف لے گئيں، اس وقت تو جو غصه ميں هونا تھا هو گيا، مگر اس واقعه كا ذكر جب كرتيں تو آب ديده هو كر فرماتيں كه دو هنڑ مارنے سے پهلے ميرے هاتھ كيوں نه ٹوٹ گئے۔ ايسے مطيع و فرماں بردار بيٹے كو جس نے خود كو پٹنے كے ليے پيش كر ديا، دوسرا هنڑ كيسے مارا، افسوس۔ ﴿سيرت اعليٰ حضرت،ص:92﴾


حضرت سيد شاه اسماعيل حسن مياں كا بيان هے كه مولانا ﴿امام احمد رضا﴾ كے والد ماجد مولانا نقي علي خاں كا انتقال هو اتو وه اپنے حصهجائداد كے خود مالك تھے ، مگر سب اختيار والده ماجده كے سپرد تھا، وه پوري مالكه اور متصرفه تھيں، جس طرح چاهتيں صرف كرتيں۔ جب مولانا كو كتابوں كي خريداري كے ليے كسي غير معمولي رقم كي ضرورت پڑتي تو والده ماجده كي خدمت ميں درخواست كرتے اور اپني ضرورت ظاهر كرتے۔ جب وه اجازت ديتيں اور درخواست منظور كرتيں تو كتابيں منگواتے تھے۔﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:108﴾


تعظيم والده كے تعلق سے ايسي مثاليں ناياب نهيں تو كم ياب ضرور هيں۔ يقينا امام احمد رضا علم و اخلاق اور تواضع و انكساري كے پيكرِ جميل تھے۔


 
علماے كرام كا مقامِ عظمت: امام احمد رضا اپنے معاصرين علما كا بے حد احترام كرتے تھے۔ خطوط لكھتے تو انتهائي بلند آداب و القاب تحرير فرماتے، ملاقات كے وقت تواضع و انكساري كا مظاهره فرماتے، معاصرين ميں اخص ترين حضرت محدث سورتي تھے۔ جس وقت دونوں كي نظريں ملتيں پهلے مصافحه پھر معانقه فرماتے، ايك دوسرے كي دست بوسي فرماتے۔ خط ميں القاب و آداب اس طرح تحرير فرماتے:٫٫الاسد الاسد والارشد الارشد، كنز الكرامۃ، جبل الاستقامۃ۔٬٬حضرت مولانا ظفر الدين قادري نے حيات اعليٰ حضرت ميں ايك واقعه تحرير فرمايا هے: ٫٫پيلي بھيت ميں ايك دعوت ميں حضرت محدث سورتي اور اعليٰ حضرت تشريف فرما تھے، دستر خوان بچھانے سے پيش تر ميزبان نے آفتابه و طشت ليا كه هاتھ دھلايا جائے۔ حضرت محدث سورتي نے عام عرفي دستور كے مطابق ميزبان كو اشاره كيا كه اعليٰ حضرت كے هاتھ پهلے دھلائے جائيں۔ اعليٰ حضرت نے برجسته فرمايا:


٫٫آپ محدث هيں اور عالم بالسنۃ هيں، آپ كا يه فيصله بالكل حق اور آپ كي شان كے لائق هے كيوں كه سنت يه هے كه اگر ايك مجمع مهمانوں كا هو تو سب سے پهلے چھوٹے كا هاتھ دھلايا جائے اور آخر ميں بڑے كا هاتھ دھلايا جائے تا كه بزرگ كو هاتھ دھونے كے بعد دوسروں كے هاتھ دھونے كا انتظار نه كرنا پڑے اور كھانا ختم هو جانے كے بعد سب سے پهلے بڑے كا هاتھ دھلايا جائے ، ميں شروع ميں ابتدا كرتا هوں ليكن كھا چكنے كے بعد آپ كو ابتدا كرني هوگي۔٬٬


محدث اعظم هند مولانا سيد محمد كچھوچھوي كا بيان هے كه اس دستر خوان پر ميں بھي حاضر تھا ۔ اعليٰ حضرت كے ارشاد پر حضرت محدث صاحب نے هاتھ بڑھا كر طشت كو اپني طرف كھينچا كه سب سے پهلے ميرے هاتھ دھلائے جائيں اور اعليٰ حضرت نے مسكراتے هوئے چهرے سے فرمايا كه اپنے فيصلے كے خلاف عمل در آمد آپ كي شان كے خلاف هے۔﴿حيات اعليٰ حضرت،ص:138﴾


امام احمد رضا كا يه عمل كسي ايك عالم كے ساتھ نه تھا بلكه تمام علماے اهلِ سنت كے ساتھ يهي محبت كا برتاوفرماتے ، اگر كوئي علما كي توهين كرتا تو سخت برهم هوتے ۔ علماے كرام كي تعظيم اور توهين كے حوالے سے ايك سوال كا جواب ديتے هوئے رقم طراز هيں:


٫٫علماے كرام كي شان تو ارفع و اعليٰ هے ۔ حديث ميں هے رسول الله صلي الله عليه وسلم فرماتے هيں :لا يستخف بحقھم الا منافقعلما كے حق كو هلكا نه جانے مگر منافق﴿رواه الطبراني في الكبير عن ابي امامۃ رضي الله عنه﴾۔ دوسري حديث ميں فرماتے هيں صلي الله عليه وسلم:لا يستخف بحقھم الا منافق بين النفاقان كے حق كو هلكا نه سمجھے گا مگر كھلا منافق﴿رواه اابو الشيخ في التوبيخ عن جابر بن عبد الله الانصاري رضي الله عنهما﴾۔ اور فرماتے هيںصلي الله تعاليٰ عليه وسلم: ليس من امتي من لم يعرف لعالمنا حقهجوهمارے عالم كا حق نه پهچانے وه ميري امت سے نهيں﴿رواه احمد والحاكم والطبراني في الكبير عن عباده بن الصامت رضي الله تعاليٰ عنه﴾، پھر اگر عالم كو اس ليے برا كهتا هے كه وه عالم هے جب تو صريح كافر هے۔ اور  اگربه وجه علم اس كي تعظيم فرض جانتا هے مگر اپني كسي دنيوي خصومت كے باعث برا كهتا هے ، گالي ديتا، تحقير كرتا هے تو سخت فاسق و فاجر هے اور اگر بے سبب رنج ركھتا هے تو مريض القلب، خبيث الباطن هے اور اس كے كفر كا انديشه هے۔خلاصۃ ميں هے :من ابغض عالماً غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر۔منح الروض الازهر ميں هے٫٫الظاهر انه يكفر٬٬﴿فتاويٰ رضويه ،ج:9،ص:140﴾


امام احمد رضا قدس سره حسب مراتب علماے كرام كا احترام كرتے، اپنے اكابر و مشائخ كي شان ميں قصيدے لكھتے بلكه اپنے اصاغر علما اور تلامذه كي بھي مدح سرائي كرتے ليكن نوابوں اور بادشاهوں كو خاطر ميں نهيں لاتے۔ ايك بار كسي نے نواب نانپاره، ضلع بهرائچ كي قصيده خواني كي خواهش ظاهر كي تو آپ نے ايك نعت مقدس لكھي جس كے مقطع ميں بر جسته اظهار برهمي فرمايا  


كروں مدح اهلِ دول رضا، پڑے اِس بلا ميں مري بلا ميں گدا هوں اپنے كريم كا، مرا دين پارهناں نهيں


ملك العلما حضرت مولانا ظفر الدين قادري فرماتے هيں:


٫٫ميں نے علماے كرام اور مشائخِ عظام كي جهاں تك زيارت كي اور معززين دنيا داروں كو ديكھا ، اكثر ايسا هي پايا، كه ان كي تعريف كيجيے تو بهت خوش، اور جهاں كسي بات پر اعتراض كيا اس درجه خفا هوئے كه اس كي صورت بھي ديكھني نهيں چاهتے۔ ان ميں سب سے اول نمبر جسے مستثنيٰ ديكھا، وه ذاتِ گرامي صفات اعليٰ حضرت امام اهلِ سنت كي تھي اور اس كي وجه صرف يه تھي كه آپ كے سب كام محض الله كے ليے تھے ، نه كسي كي تعريف سے مطلب نه كسي ملامت كا خوف تھا۔ حديث شريف :٫٫من احب لله وابغض لله و اعطي ل