Select Language  
Alumni Login
Password
Forgot Password
Alumni Sign UP
Your E-mail Address:

About Us

Committee

Education

Syllabus

Libraries

Departments

Schools

Other Services

Help Us

اگر هندوستان كے تمام مذاهب كا جائزه ليا جائے تو بے شمار عقائد و نظريات كے ماننے والے افراد سامنے آئيں گے اور ان ميں سے هر ايك اپنے مذهب كي صداقت و حقانيت كا دعويٰ كرے گا ۔ ليكن اگر اسلام سے ان كا تقابل كيا جائے تو تمام معاملات ميں اس كے سامنے صفر نظر آئيں گے ، كيوں كه يه بھانت بھانت كے مذاهب انساني ذهن كي پيداوار هيں اور اسلام كو بارگاهِ صمديت سے سند مل چكي هے ۔ اسلام ايك فطري دين هے ، اس كے اصول و ضوابط فطرت كے مطابق هيں۔ معاشرتي اور عائلي ذمه داريوں كو شرعي لحاظ سے ادا كرنے اور مذهبي اصول كے مطابق زندگي گزارنے كو اس نے عبادت قرار ديا هے اور اس پر ثواب كي خو ش خبري بھي سنائي هے ۔ اسلام ميں خالق و مالك كي خوشنودي حاصل كرنے كے ليے رهبانيت اور دنيا سے كناره كشي كا كوئي تصور نهيں۔ انسان اگر اپنے رب كي رضا كي خاطر اسلامي احكام كي پابندي كرتا هے تو رفته رفته سلوك و روحانيت كي منزل طے كرنے لگتا هے ۔ بر خلاف اس كے ديگر مذاهب و اديان جن ميں روحانيت كے حصول كے ليے سنياس اور رهبانيت ضروري هے۔


زيرِ تبصره كتاب ٫٫اسلام اور هندوستاني مذاهب ميں تصور روحانيت ٬٬ ميں اسلام اور ديگر مذاهب ميں تصورِ روحانيت كا تقابلي جائزه ليا گيا هے ۔ كتاب كے مصنف حضرت مولانا مبارك حسين مصباحي ايك بے باك اديب، سريع القلم اور صاحبِ ذوق عالمِ دين هيں ۔ اس كتاب كي تصنيف كا پس منظر هي ان كي سرعت نگاري اور محنت و جفاكشي پر واضح دليل هے ۔ 17ستمبر 2002ئ كو لكھنوميں منعقد ٫٫صوفي سنت سميلن٬٬ميں وقت مقرره كے فقط دو روز قبل مذكوره عنوان پر مقاله لكھنے كے ليے اصرار كيا گيا ۔ اراكين كے پيهم اصرار پر دعوت قبول كر لي اور وقت مقرره پر مقاله پيش كر ديا ۔ اس عجلت كے باوجود يه تمام مقالات ميں سب سے نماياں رها ۔ اس مقاله كو كتابي شكل ميں دوباره شائع كرنے كا سبب بيان كرتے هوئے مصنف رقم طراز هيں:


٫٫آج كے جديديے تصوف كے حقيقي مفهوم سے ناآشنا هيں۔ وه عام طور پر جوگيت، رهبانيت اور صوفيت كو مشتركه معاني ميں ليتے هيں ، اس پر طره يه كه اس غلط اندازِ فكر كو هي جادهحق سمجھتے هيں ۔ اس احساس نے مجھے مجبور كيا كه ميں اپنے مقالے كو كتابي شكل ميں شائع كروں ۔ ممكن هے يه تحرير نام نهاد روشن خيالوں كي فكري گھٹا ٹوپ تاريكيوں ميں اجالے كي كوئي كرن چھوڑ جائے۔٬٬﴿ص:6﴾


كتاب كے آغاز ميں حضرت علامه مفتي محمد نظام الدين رضوي مفتي الجامعۃ الاشرفيه مبارك پوركي مختصر اور جامع تقريب هے ۔ مصنف نے روحانيت كے ماخذ روح كا معني و مفهوم بيان كياهے اور اس پر اچھي بحث كي هے اور روح كي حقيقت و ماهيت كے متعلق متعدد عرفاے حق كے اقوال نقل كيے هيں جيسے حضرت جنيد بغدادي، حضرت حجۃ الاسلام امام غزالي وغيرهم رحمهم الله ۔ پھر روح كي موت و حيات پر بھي اچھي خاصي گفتگو كي هے ۔ الله تعاليٰ كي طرف سے انسانوں كے ليے تين گھر بنائے گئے هيں ﴿1﴾دار الدنيا ﴿2﴾دار البرزخ ﴿3﴾دار القرار۔ ان ميں سے هر ايك كے احكام و مسائل بيان كيے هيں ۔ پھر اسلامي تصوف و روحانيت كي حقيقي ماهيت كو متعدد كتب معتبره كے حوالے سے بيان كيا هے ، جيسے رساله قشيريه، طبقات كبريٰ وغيره۔ مصنف نے حيات انبيا كے منكرين كا رد كرتے هوئے اس ضمن ميں يه بھي ثابت كيا هے كه موت جسم پر طاري هوتي هے نه كه روح پر ۔ روح كي كنه و حقيقت كے بارے ميں صوفياے كرام كے بھي مختلف گروه هيں ۔ جمهور مشائخ اور اكثر   اهلِ سنت كا مذهب يه هے كه روح نه عيني هے نه وصفي۔ روح ايك جسمِ لطيف هے جو الله كے حكم سے آتي جاتي هے ۔ بے دين، روح كو قديم مانتے هيں اور اس كي پوجا كرتے هيں ، اس كو فاعل اور مدبر بھي جانتے هيں۔


اس كے بعد مصنف نے هندوستان كے ديگر مذاهب كي تعليمات اور ان كے فلسفهروحانيت پر بحث كي هے ۔ سب سے پهلے جين دھرم كي مختصر تاريخ بيان كر كے اس كي تعليمات پر روشني ڈالي هے اور اس دھرم كے متعلق بهت سي معلوماتي باتيں بيان كي هيں ۔ جيسے جين مذهب ميں طاقت، آنند حاصل كرنے كے ليے پانچ عهد لازم هيں ﴿1﴾اهنسا ﴿2﴾ستيه ﴿3﴾استيه ﴿4﴾اپريگره﴿5﴾برهمه چريه۔ پھر ان كي تشريح بھي كي هے ۔ نيز جين دھرم كے 24ارهتوں كو بھي ذكر كيا هے ۔ اس كے بعد هندو دھرم ميں تصور روحانيت كو بيان كيا هے ، جس ميں ان كے ويدوں كا تذكره، روح كو نجات اور مكتي حاصل كرنے كے تين طريقے كرم، بھكتي، گيان كا بھي ذكر هے ۔ ان كے چاروں فرقوں اور ان كے احكام پر بھي روشني ڈالي هے ۔ پھر بودھ دھرم ميں تصور روحانيت كا تذكره هے اور اس كي تاريخ بھي بيان كي هے ، پھر اس مذهب كے عقائد و نظريات كو بيان كر كے روحاني فلسفه پر بھي گفتگو كي هے۔بالجمله پوري كتاب حقائق و معلومات كا مرقع هے جس كا مطالعه كرنے والا مصنف كي علمي لياقت اور ان كي تلاش و جستجو كو داد و تحسين ديے بغير نهيں ره سكتا ۔ اس تحقيق و تفتيش كے باوجود زبان و بيان بھي اچھوتا اور دلچسپ هے جس سے ان كا ادبي كمال جھلكتا هے۔ كتاب كے اختتام ميں ٫٫مذهب بيزاري كے نتائج٬٬ كے عنوان سے تين صفحات ميں موجوده هندوستاني مذاهب كے اصول اور ان پر عمل آوري كا جائزه ليا هے جس ميں ان كے خيالات كي نقاب كشائي كي هے ۔ مثلاً ص:46پر لكھتے هيں:


٫٫واضح رهے كه كوئي بھي مذهب هو، اس كي عند الله جو بھي واقعيت هو اس مذهب كے اصول كا خون كر كے كبھي اس مذهب كے مقاصد كو حاصل نهيں كيا جا سكتا ، يه خود فريبي اور خود پرستي تو هو سكتي هے ايشور پرستي اور عرفان و روحانيت پرستي نهيں هو سكتي۔٬٬


كتاب باطني اور معنوي خوبيوں كے ساتھ ساتھ ظاهري حسن سے بھي آراسته هے ۔ ٹائٹل حسين اور جاذب نظر هے ۔ قارئين اس كتاب كا مطالعه ضرور كريں۔

 

 

 

 BACK

 

 

Designed & Hosted by Nabulae Web Services
Copyright 2002 - 07 AL JAMIATUL ASHRAFIA All rights reserved