Select Language  
Alumni Login
Password
Forgot Password
Alumni Sign UP
Your E-mail Address:

About University

Committee

Education

Syllabus

Libraries

Departments

Schools

Other Services

Help Us

اس امر سے انكار نهيں كيا جاسكتاكه حج اركان اسلام ميں سے هے ۔وسائل كي دستيابي كے بعد بھي فريضه حج كي ادائيگي سے پهلو تهي كرنا شريعت اسلاميه كي روشني ميں سخت معيوب هے، بلكه حديث رسول صلي الله عليه وسلم كے مطابق ايسے بدنصيب كا خاتمه بالايمان هونا تك مشكوك هوجاتاهے ۔ اور يه بتانے كي ضرورت نهيں كه ايك مسلمان كے نزديك موت كي آخري هچكيوں ميں ايمان كي سلامتي زندگي كي هزارصعوبتوں ، شب وروز كے ناقابل برداشت مصائب وآلام اورپل پل كي دشوارگزارگھڑيوں سے زياده اهم هے۔


سوچتا هوں تو دماغ پھٹنے لگتا هے كه حج كے اس مقدس مذهبي فريضه كي عظيم الشان اهميت ، فضيلت اور كرامت كے باوجود حج كے حوالے سے انتظامي امور كے سعودي ذمه داروں نے ادھر چند سالوں سے اسے ٫٫بازيچه اطفال ٬٬ بنادياهے ۔ يقين نه آئے تو آنے والے صفحات ميں ميرے معروضات كو٫ ٫عدل وانصاف ٬٬اور ٫٫ زميني حقائق ٬٬ كے اجالالے ميں قطعي غير جانبدار هوكرپڑھا جائے اور اپنے ضمير كي سرگوشيوں پر جهاں تك ممكن هوسكے اس كي اصلاح كي كوشش بھي كي جائے ۔


چاند كا مسئله :يه بات ڈھكي چھپي نهيں هے كه سعودي عرب كے ذمه داروں نے اپنے ليے ايك اسلامي كلينڈر بنايا هے جسے ٫٫ ام القريٰ كلينڈر٬٬ كے نام سے جانا جاتاهے ۔اس كيلنڈر كي بنيادوں كے حوالے سے كئي بار تبديلياں كي گئيں هيں ۔


اپريل  1999 ئ سے قبل تك يه طے پايا گيا تھا كه اگر غروب آفتاب كے وقت چاند كي عمر12گھنٹے يا اس سے زائد هو تو آنے والا دن اسلامي ماه كا پهلا دن قرار پائے گا۔


     
اپريل  1999ئ كو يه طے پايا گيا كه اگر چاند كي 29 تاريخ كو نئے هلال كا غروب مكه ميں غروب آفتاب كے بعد هوتو آنے والا دن اسلامي ماه كا پهلا دن قرار دياجائے گا۔


     
مارچ  2002ئ كو سابقه بنيادوں ميں ايك بار پھر ردوبدل كرتے هوئے يه طے كيا گيا كه چاند كي 29تاريخ كو اگر دوشرطيں پوري هوں گي تو آنے والا دن اسلامي ماه كا پهلا دن قرار دياجائے گا۔


 
الف:  اگر محاقon Conjuncti غروب آفتاب سے قبل هو۔


 
ب:   اگر غروب آفتاب كے بعد غروب ماهتاب هو۔


    
﴿ مزيد تفصيلات كے ليے ام القريٰ كلينڈر كاسركاري ويب سائٹ ديكھيں ﴾


          
سابقه رد وبدل كے بعد بھي جب چاندكے مسئله كو شريعت كي روشني ميں دور كرنا ممكن نظر نه آياتو ٫٫ ام القريٰ كلينڈر ٬٬ كے حوالے سے يه وضاحت كي گئي كه


 The Ummul Qura calendar is intended for civil purposes only .           


ترجمه:  ام القري كلينڈر كا اعتبار صرف سركاري معاملات كے ليے هوگا۔


        
اور مذهبي معاملات ميں ٫٫ رويت هلال ٬٬ كي بنياد پر اسلامي ماه كے تعين كي قرار داد منظور هوئي ۔1419 هجري ميںرويت هلال كي توثيق كے ليے مندرجه ذيل افراد پر مشتمل كميٹياں بنائيں گئيں ۔


 
الف: مجلس قضا كا ايك فرد


ب:  سعودي شعبه فلكيات كا ايك فرد


ج:  شهر ي انتظاميه كا ايك فرد د:    چند رضا كار


اس طرح كي چھ كميٹياں سعودي عرب كے مختلف حصوں ميں بنائي گئيں : مكه ، رياض، قسام، حيل، تبوك، عسر ۔


ليكن حسرت وافسوس كا مقام يه هے كه اتني كميٹيوں كے باوجود ٫٫ رويت هلال ٬٬ كے حوالے سے افراتفري پر قابو نه پايا جاسكا۔ اس كي واحد وجه يه هے كه ٫٫ اعلي مجلس قضا ۃ ٬٬ اپني غير ذمه دارانه رويه كي بنياد پر بغير سنجيده تحقيق كے هر قسم كي گواهي قبول كرليتي هے ۔


@)))
كي عيد الفطر : 2000ئ ميں عيد الفطر كے حوالے سے جو غلطي سعودي ذمه داروں نے كي اسے اطراف وجوانب كے عرب علما نے بھي محسوس كيا۔ عرب كے مشهور عالم شيخ يوسف قرضاوي نے اپنے ايك اعلاميه ميں كها كه 200017 بروز جمعه كو عيد الفطر نهيں بلكه رمضان كي 30 تاريخ تھي ، لهذا جن لوگوں نے سعودي اعلان پر عيد كر ليا هے انھيں ايك روزه قضا كرلينا چاهيے ۔ اسي طرح ٫٫ عرب نيوز ٬٬ كي 11فروري 2000ئ كي اشاعت نے بھي اس غلطي كي طرف توجه دلائي ۔ اور يه احتجاج واقعي صحيح تھا ۔ اس كي وجه يه تھي كه جمعرات كي رويت كسي طور ممكن هي نهيں تھي كيونكه غروب ماهتاب مكه ميں غروب آفتاب سے قبل هي هوچكا تھا۔


اس حوالے سے دوسري اهم بات يه رهي كه 5فروري 2000ئ كو سورج گرهن تھا۔ اور يه بات طے شده هے كه جس دن گرهن هو اس كے دوسرے دن چاند هرگز ديكھا نهيں جاسكتا۔ لهذا عيد الفطر كے حوالے سے سعودي اعلان كواگر صحيح مان ليا جائے تو شوال كا مهينه ١٣ دنوں كا هوجائے گا جو قطعي باطل هے ۔


@))&
كا فريضه حج: اب ذرا اسي آئينے ميں حاليه حج كا ايك جائزه بھي لے ليجئے ۔  ام القري كيلنڈر كے مطابق 10 دسمبر 2007ئ كو رويت هلال كي پيشن گوئي كي گئي تھي، ليكن اچانك ايك دن پهلے هي چاند كي پهلي تاريخ هونے كا اعلان كرديا گيا۔ واضح رهے كه ٩دسمبر2007ئ بروز اتوار كو مكه ميں غروب آفتاب پانچ بج كر انچاليس منٹ پر هوا تھا جب كه چاند كي پيدائش آٹھ بج كر اكتاليس منٹ شب ميں هوئي هے ۔ يعني چاند كي پيدائش سے تقريبا تين گھنٹے قبل هي مكه ميں كسي نے چاند ديكھ ليا۔    جو چاهے آپ كا حسن كرشمه ساز كرے يه امر ايسا هي هے جيسے كوئي سركاري دفتر بچے كي پيدائش سے تين گھنٹے قبل هي بچے كا برتھ سرٹيفيكٹ جاري كردے ۔ حج كي تاريخ كا اعلان كرنے والے سعودي ذمه داران كي عقل وفراست پر ماتم كرنے كو جي چاهتاهے كه انهيں اتنا شعور نهيں كه جس چيز كا وجود نهيں اسے كيوںكر كوئي شخص ديكھ سكتا هے ؟


يهي وجه هے كه سعودي اعلاميه كے بعد سارے عرب ممالك ميں كھلبلي مچ گئي اور قابل اعتماد علما نے اس پر كڑي گرفت كي۔ ابھي حال هي ميں عرب كے مشهور ٹي وي چينل ٫٫ الجزيره٬٬ نے 3جنوري 2008ئ كو اپنے ايك پروگرام ٫٫ بلاحدود٬٬ ميں محترم محمد شوكت عوده رئيس المشروع الاسلامي لرصد الاھله سے گفتگو كي ۔ جس كا لب لباب يه تھا كه امارات، قطر، سوريا، مغرب، سودان ، عمان ، كويت ، جزائر، مصراور اردن وغيره كے تقريبا چاند كے حوالے سے خاصي معلومات ركھنے والے 25علما نے مشتركه ايك اعلاميه جاري كيا هے اور زميني حقائق كي روشني ميں سعودي اعلان كو قطعي بے بنياد قرار ديتے هوئے اتوار كي رويت كو محال كها هے ۔


ايك عجيب وغريب انكشاف:اسے رحمت خداوندي كهيے كه اس سال هيوسٹن كے مسلمانوں كا ايك گروپ ميري معيت ميں فريضه حج كي ادائيگي كے ليے حاضر هوا تھا۔ طے شده پروگرام كے مطابق13ذي الحج كو رمي جمرات كے بعد هميں حرم پاك سے متصل مكه رائل سوفيٹل Makkah Royal Sofitalنامي ايك فائيو اسٹار هوٹل ميں منتقل هونا تھا۔ هم اپنے پروگرام كے مطابق جب شام كے چار بجے هوٹل پهنچے تو ايك عجيب وغريب خبر نے هم سبھوں كو مبهوت كرديا۔ هوٹل كے جنرل منيجر نے بتايا كه هميں وزارت حج كي طرف سے كل هي ايك فيكس موصول هوا هے ، جس كے مطابق هميں حكم ديا گيا هے كه هم     ام القري كيلنڈر كے مطابق آج كو 12ذي الحج سمجھيں اور وه لوگ جنهوں نے 13ذي الحج تك آپ كے يهاں كمرے محفوظ كرائے هوں انهيں بغير كسي اضافي رقم كے ايك دن مزيد رهنے ديا جائے۔ چشم ديد گواهوں نے هميں بتايا كه حرم كے اطراف ميں موجود سارے هوٹلوں ميں اس فيكس نے ايك قيامت صغري بپا كردي هے ۔ سارے هوٹلوں كي راهداريوں ميں افرا تفري مچي هوئي هے ۔ انهوں نے بتايا كه ابھي ابھي هم نے انڈونيشيا كے تقريبا سو افراد پر مشتمل ايك گروپ سے بھي معذرت كي هے جو مزيد ايك شب مني كے خيمه ميں گزارنے پر مجبور هيں۔ سلسله كلام كو جاري ركھتے هوئے منيجر نے همارے ساتھيوں كو بتايا كه اس ميں همارا كوئي قصور نهيں هے ، آپ كو جو بھي كهنا هے وه وزارت حج سے كهيے ۔ دوسرے دن جب هم اپنے مطوف كے دفتر گئے تو هميں بتايا گيا كه انهيں بھي اسي طرح كا حكم نامه وزات حج سے موصول هواهے ۔


ديكھ رهے هيں آپ مسلمانوں كے مذهبي جذبات كے ساتھ كھلواڑ كرنے كے اقدامات جب چاها چاند كي تاريخ آگے بڑھادي اور جب چاها اسے پيچھے كرديا٫٫رويت هلال ٬٬ كو بھي وه بنام وراثت ملي هوئي اپني ذاتي ملكيت سمجھتے هيں اور سلوك بھي زرخريد بانديوں جيسا كرتے هيں ؟


مني كے انتظامات :اس ميں شك نهيں كه موجوده حكومت نے مني كي سرزمين پر خيموں كا ايك شهر بسا ديا هے ۔ ليكن اسي كے ساتھ يه تلخ حقيقت بھي سن لي جائے كه چند وجوه سے جو بے جا پريشانياں حجاج كو هوتي هيں وه قابل برداشت نهيں هيں ۔


1
كئي مربع كيلو ميٹر پر پھيلے هوئي اس شهر ميں سٹركوں كے نام نهيں لكھے هوئے هيں ۔ نتيجه يه هوتا هے كه اگر كوئي اپنا خيمه بھول جائے تو اس كي واپسي از حد دشوار هوجاتي هے ۔ خصوصيت كے ساتھ جو لوگ عربي زبان سے واقف نهيں هوتے ان ضعيف وناتواں لوگوں كے ليے دوباره اپنے احباب سے ملاقات ايك مسئله بن جاتي هے ۔


2
اتنے بڑے شهر ميں سارے خيموں كا رنگ سفيد هے ۔ جس سے سب ايك جيسے لگتے هيں ۔ كاش اسے مختلف رنگوں كے ذريعه ممتاز كرديا جاتا تو بهت حد تك بے زبان حجاج بھي اپني منزل ڈھونڈ ليتے ۔


3
همارے يهاں اگر كوئي بڑا جلسه هورها هو تو مجلس انتظاميه كي طرف سے ايك انكوائري آفس كا قيام لازمي سمجھا جاتاهے ، ليكن  آپ كو يه جان كر حيرت هوگي كه اتنے بڑے عارضي شهر ميں ايك بھي انكوائري آفس نهيں هے ۔ اب اگر كسي حاجي كو كچھ پوچھنا هے تو وه در بدر كي خاك چھانتا پھرتاهے ۔ اور يه بھي مضحكه خيز بات هے كه نظم وضبط پر مامور پوليس كے عمله سے بسا اوقات اگر كچھ پوچھا جائے تو وه اپني زبان ميں يه كهتے هيں كه وه اس علاقے كے نهيں هيں لهذا كسي طرح كي كوئي راهنمائي نهيں كرسكتے ۔


4
يه بات حقيقت پر مبني هے كه آج كل حجاج بڑي تعداد ميں حرمين حاضر هوتے هيں ، جس سے مني ميں بھي اچھي خاصي بھيڑ هوجاتي هے ۔ ميري سمجھ سے بالا تر هے كه ان حالات ميں انتظاميه مني كي سڑكوں پر بازار لگانے كي اجازت كيوںكر ديتي هے ؟ كوشش تو يه هوني چاهيے كه غير ضروري ازدحام سے مني كو دور ركھا جائے ، بجائے اس كے وهاں پر طرح طرح كي دكانيں لگ جاتي هيں جس سے كشاده سڑكيں بھي تنگ گليوں ميں تبديل هوجاتي هيں اور حجاج كا چلنا پھرنا مشكل هوجاتاهے ۔


قرباني كا ٹوكن :انتظاميه كي طرف سے حج كي قرباني كے ليے ٹوكن فروخت كيے جاتے هيں ۔ مجھے يه جان كر حيرت هوئي كه ميرے خيمه ميں ايك صاحب نے ٹوكن خريدا ۔ جب انهوںنے اپني قرباني كے حوالے سے ممكنه وقت ديے جانے كي گزارش كي تو كهاگيا كه انهوں نے جب مطوبه رقم ادا كردي تو سمجھ لياجائے كه قرباني هوگئي لهذا بغير كسي انتظار كے وه اپنا احرام اتار ليں ۔


ميري معلوما ت كے مطابق چاروں مشهور مذاهب كے مطابق پهلے قرباني كرني پڑتي هے اس كے بعد احرام اتارنے كي اجازت هوتي هے حتي كه اگر كسي نے قرباني سے قبل حلق يا قصر كرواليا تو اس پر دم دينا واجب هوجاتاهے ۔اس پس منظر ميں مذكوره بالا حالات كا جائزه ليں تو رونگٹے كھڑے هوجاتے هيں كه كس طرح شرعي معاملات ميں بے جا تصرف كے ذريعه سعودي انتظاميه كے ذمه داران لوگوں كا حج مخدوش كررهے هيں ۔


كيا هي بهتر هوتاكه اس كام كے ليے پورے مني ميں بڑے بڑے برقي بورڈ بنا ديے جاتے ، جن پر قرباني هوجانے كے بعد مذكوره ٹوكن كے نمبر دكھائے جاتے ۔ اب وه شخص جس نے ٹوكن خريدا هے ، پورے مني ميں كهيں بھي هو اپنا مطلوبه نمبر ديكھ كر يه يقين كرليتاكه اس كے نام كي قرباني هوچكي هے ۔


پاسپورٹ پر كنڑول :آپ پوري دنيا ميں كهيں بھي چلے جائيں آپ كا پاسپورٹ انتظاميه كا كوئي فرد اپنے پاس نهيں ركھتا۔يه آپ كي ملكيت هوتاهے اور آپ هي كے پاس رهتاهے ، ليكن سعودي عرب كے عجيب وغريب قانون كے مطابق حجاج كا پاسپورٹ مطوف اپني تحويل ميں ركھ ليتاهے ۔ اور اس پر طرفه تماشه يه كه جده سے مكه جاتے هوئے اسے مطوف كي تحويل ميں دينا هوتاهے ، پھر جب مكه سے مدينه جارهے هيں تو ايك بار پھر اسے مطوف كے پاس سے بس كا ڈرائيور لے ليتاهے اور اسے مدينه پهنچ كر وهاں كي آفس ميں ركھ ليا جاتاهے ۔ اس كے بعد مكه آتے هوئے ايك بار پھر اسے وهاں سے ليا جاتاهے اور مكه پهنچ كر اسے مطوف كي تحويل ميں ديا جاتاهے ، جسے وطن واپسي پر بس كا ڈرائيور لے كر ائرپورٹ پر آپ كے حوالے كرتاهے ۔جو لوگ ان مراحل سے گزر چكے هيں وه اچھي طرح سے جانتے هيں كه پاسپورٹ كے اس لينے دينے ميں كئي كئي گھنٹے  بلا وجه كے صرف هوتے هيں ۔ اور كبھي كبھي تو پاسپورٹ گم بھي هوجاتا هے پھر تو پوري كي پوري بس دسيوں گھنٹے انتظاميه كے دفتركے سامنے لاچار ومجبور كھڑي رهتي هے ۔ميرے ساتھ سال گذشته اسي طرح كي افتاد پڑي تھي ۔بعد نماز عشا هم دو بسوں ميں سوار هوگئے اور مدينه طيبه سے رخصت هونے كے ليے نكل پڑے۔كچھ دير بعد هميں بتايا گيا كه كسي صاحب كا پاسپورٹ انتظاميه كي آفس ميں گم هوگياهے ۔ يقين كيجئے كه عشا كي نماز كے بعد سے طلوع سحر تك هم يوں هي بس ميں بيٹھے رهے تب كهيں جاكر پاسپورٹ ملا اور بڑي مشكلوں سے هم نے ابار علي پهنچ كر فجر كي نماز ادا كي ۔


پاسپورٹ كي تحويل سے متعلق سعودي ذمه داران يه كهتے هيں كه پهلے حج كے ويزے پر آنے والے بعض لوگ واپس اپنے ملك جانے كے بجائے يهيں رك جاتے تھے ، لهذا هم نے يه ضابطه غير قانوني طورپر رك جانے والے انهي لوگوں كے منصوبے كو ناكام بنا نے كے ليے بنايا هے ۔


ميں سمجھتا هوں كه اگر واقعي سعودي انتظاميه غير قانوني طورپر يهاں رك جانے والوں كا سد باب كرنا چاهتي هے تو اس مسئله كا ايك آسان حل يه بھي هوسكتاهے كه حجاج كرام كے پاسپورٹ ائير پورٹ پر هي ركھ ليے جائيں اور انهيں ايك شناختي كارڈ دے ديا جائے جس پر اس كے پاسپورٹ سے متعلق معلومات درج هوں ،جس كي راهنمائي ميں واپسي پر حجاج اپنے پاسپورٹ آساني كے ساتھ مطلوبه ائير پورٹ سے حاصل كرليں ۔ اس طرح جده ، مكه اور مدينه كي آمد ورفت كے دوران پاسپورٹ كے لين دين پر اضافي پريشانيوں سے حجاج كو بچايا جاسكتاهے ۔


حرمين كے اطراف ميں بازار:حديث رسول صلي الله عليه وسلم كے مطابق سب سے بهترين جگه مسجد هے اور بدترين جگه بازار، ليكن حرمين شريفين ميں دولت كے پجاريوں نے ان دونوں جگهوں كو بالكل يكجا كرديا هے ۔ مجھے اچھي طرح ياد هے كه  1992ئ ميں جب پهلي بارمجھے مدينه طيبه كي حاضري كي سعادت ملي تھي توعين جهت قبله كے مخالف سمت ايك لق ودق ميدان نظر آتا تھا ۔ استفسار پر بتايا گيا كه يهاں پراني آبادي تھي جسے مسجد نبوي كي توسيعي منصوبه كے تحت خالي كرواليا گيا ۔ اطراف ميں كھلي جگه كے بعد مسجد نبوي كي بلند وبالا عمارت بڑي ديده زيب لگ رهي تھي ۔ مگر افسوس كے سال گذشته جب حاضر هوا تو يه ديكھ كر دل رو پڑا كه پراني آبادي كے سينے پر فلك بوس عمارتيں بنادي گئيں هيں ، نچلي منزلوں كو بازار كے نام كرديا گيا هے اور ديگر منزلوں كو هوٹل بناديا گيا۔ ميں دير تك سوچتا رها كه كيا اسي كا نام ٫٫ مسجد كي توسيع ٬٬ هے ؟ اور يهي حال ديگر تينوں جهتوں كا هے ۔ هر طرف پركشش بازار بنے هوئے هيں ۔ اپني قيام گاه سے حاضري بارگاه نبوت كے ارادے سے نكليں تو بازاروں كي چكاچوند روشني افكاروخيالات كا رخ موڑ ديتي هے ۔ كھانے پينے ، دواخانے اور چھوٹي موٹي ضرورت كي چيزوں كي دكانوں كا مفهوم تو سمجھ ميں آتاهے ، ليكن كھلونوں ، زيورات ، زرق برق كپڑوں اور نسوانه ميك اپ كي دكانوں كي عين حرم پاك ميں آخر ضرورت هي كيا هے ؟ اس پركشش بازار سے سعودي انتظاميه حجاج كي كيا خدمت كرنا چاهتي هے، ميري سمجھ سے بالا ترهے ۔


اور اس سے برا حال تو مسجد حرام كا هے ۔ حرم پاك كي ديوار سے تقريبا متصل ايك جانب تو خود شاهي محل هے اور ديگر جهتوں ميں بڑے بڑے بازاراور هوٹل موجود هيں ۔ ايك طرف تو يه كها جائے كه حج كے دوران حجاج كي كثرت كي وجه سے كھوا سے كھوا چھلتاهے اور دوسري طرف هزاروں دكانداروں اور ان كے آمد ورفت كے وسائل كي وجه سے بے ضرورت ازدهام يه كيسا تضاد هے ۔ پھر يه كيسي عجيب بات هے كه نماز كے وقت حرم شريف ميں جگه اتني تنگ پڑ جاتي هے كه هزاروں افراد گندي سڑكوں پر نماز ادا كرنے پر مجبور هوتے هيں ، ليكن بازاروں اور هوٹلوںكي تعميرپورے آب وتاب كے ساتھ جاري هے ۔


حرمين كے انتظامات ميں عوام كا حصه :


بلاشبه هر مسلمان كے دل ميں يه خواهش تڑپتي رهتي هے كه كاش حرمين شريفين كي تعمير ميں اسے بھي شركت كا موقع ميسر آتا، ليكن اسے كيا كهيے كه سعودي انتظاميه نے كڑوروں مسلمانوں كي جذباتي خواهشات كا گلا كھونٹ ركھا هے ۔ هميں يه اعتراف هے كه مالك بے نياز نے پڑول كي بے پناه دولت كے ذريعه انهيں اس قابل بنايا هے كه وه حرمين كے اخراجات كے حوالے سے كسي كي جيب كے محتاج نهيں هيں، ليكن ايك مسلمان كے حصول ثواب واجر كے مواقع پر شب خون مارنا آخر كيسا انصاف هے ؟ مسلمانوں كے ساتھ خير خواهي كا تقاضا تو يه هے كه دوسروں كے ليے حصول ثواب كو آسان كرديا جائے تاكه زياده سے زياده مسلمان الله تعاليٰ كے فضل وكرم سے مستفيض هوسكيں ۔


كيا هي بهتر هوتا كه هردروازے كے قريب چندے كے ڈبے ركھ ديے جاتے تاكه هر مسلمان اپني حيثيت كے مطابق اپنا حصه ڈال كر اپنے نامه اعمال كے وزن ميں اضافه كرسكتا۔


آپ كو يه جان كر حيرت هوگي كه بعض مسلمان اپنے ديني جذبات كي تسكين كے ليے قرآن پاك كے نسخے حرمين شريفين ميں ركھ ديتے هيں تاكه جب اسے پڑھا جائے تو اس كا ثواب ان كے مرحومين تك بھي پهنچ سكے ۔ ليكن هائے رے شوميقسمتسعودي انتظاميه كے ليے ساده لوح مسلمان كا يه معصوم سا اقدام بھي گوارا نهيں۔ ميں نے اپني آنكھوں سے ديكھا كه ان كي هدايات پر وهاں كے عملے ايسے تمام نسخوں كو ڈھونڈ رهے هيں جو كسي مسلمان نے حرم پاك كي الماريوں ميں ركھا هے ۔  مجھے بتايا گيا كه وه ان تمام نسخوں كو باهر سے آئے هوئے حجاج ميں تقسيم كرديتے هيں ۔


ٹرويل ايجنٹ كے ذريعه ويزے كا سسٹم سعودي انتظاميه نے ادھر چند سالوں سے ويزه كے حوالے سے اپني جديد پاليسي متعارف كروائي هے ، جس كے مطابق حجاج كو براه راست ويزه دينے كے بجائے ، ان ٹرويل ايجنٹوں كو ويزے ديے جاتے هيں جو ان كے متعين كرده ضابطے كے مطابق رجسٹرڈ هيں ۔ اس نظام كے تحت سعودي عرب كو كيا فائده پهنچا يه تو خدا هي جانتاهے ليكن ميں اپنے سابقه تجربات كي بنياد پر پورے وثوق كے ساتھ كهه سكتاهوں كه اس كے وسيع تر نقصانات كا نشانه حجاج كرام بنے هيں ۔ ٹرويل ايجنٹ كو اچھي طرح معلوم هے كه حاجي خود تو ويزه حاصل كرنهيں سكتا اور حج اسے بهر حال كرنا هے ۔ بس ايك حاجي كي يهي بے بسي ٹرويل ايجنٹ كے ليے نعمت غير مترقبه هوجاتي هے ۔ اب وه حاجي كو جي بھر كے لوٹتا هے ۔ يهاں سبز باغ ديكھا كر اپنے شيشه ميں اتار ليتاهے اور وهاں اپنے وعده سے بے وفائي ۔ بهت ممكن هے كه چند ٹرويل ايجنٹ واقعي خدمت حجاج كے جذبے سے سرشار ايسا نه كرتے هوں ، ليكن ايك عام جائزے كے مطابق عمومي كيفيت وهي هے جو بيان ميں گزري۔


اپني گفتگو كو ختم كرتے هوئے ميں ملت اسلاميه كي عالمي قيادت سے مودبانه گزارش كروں گاكه وه اپنے اپنے حلقه اثر ميں حج كے اصلاحات سے متعلق مذكوره بالا نكات پر گفتگو كريں اور ايك قرار داد منظور كرواكر سعودي انتظاميه كے ذمه داروں كے حوالے كريں تاكه وه مناسب اقدامات كے ذريعه هماري بے چينيوں كا ازاله كرسكيں ۔


ايك مناسب تجويز:گذشته گفتگو سے يه اندازه لگانا مشكل نهيں كه حج كے حوالے سے ايك انقلابي تبديلي كي اشد ضرورت هے تاكه هميشه كے ليے حتي الامكان مسائل حل كيے جاسكيں۔ كسي مستقل حل كے ليے ميري رائے يه هے كه عالم اسلام كے چند باصلاحيت اور انتظامي امور پر دسترس ركھنے والے ذي هوش اور تجربه كار مسلمانوں پر مشتمل ايك كميٹي تشكيل دي جائے ۔اس كميٹي ميں سارے عالم اسلام كي مناسب نمائندگي هوتاكه كسي كو شكوه كا موقع نه مل سكے ۔يه كميٹي حج كے سارے امور كا باريك بيني سے جائزه لے اور مناسب ترين لائحه عمل بنا كر سعودي ذمه داروں تك نه صرف پيش كرے بلكه اسے بروئے كار لانے ميں هر طرح كا تعاون بھي كرے۔اس طرح موجوده سعودي حكمرانوں سے ٹكراوكے بغير هم كسي قدر آساني كے ساتھ اپنے مقاصدميں كاميابي حاصل كرسكيں گے ۔


عزيزان ملت اسلاميه يه وقت سونے كا نهيں كچي نيند سے بيدار هونے كا هے خاموش رهنے كا نهيں بلكه حق كي سربلندي كے ليے پوري قوت كے ساتھ چيخنے كا هے مجھے يقين هے كه ماضي ميں جس طرح سے الله رب العزت نے اپنے عظيم پيغمبر حضرت ابراهيم عليه السلام كي آواز ميں وه قوت عطا كردي كه قيامت كي صبح تك ماوں كي كوكھ ميں جنم لينے والے هر اس ذي روح نے اسے سن ليا جسے حج كي سعادت حاصل هوني هے ، كيا عجب كه الله رب العزت همارے كمزور وناتواں آواز ميں بھي وه قوت ابراهيمي پيدا كردے جو حجاز كے تقدس كو پامال كرنے والوں كو خش وخاشاك كي طرح بهالے جائے ۔اس ميں شك نهيں كه هم كمزور هيں ليكن جس كے سهارے پر هميں فخر هے وه تو بے سهارا نهيں  وه تو كونين كا مالك هے كه، محبوب ومحب ميں نهيں ميرا تيرا۔

 

 

 BACK

 

 

Designed & Hosted by Nabulae Web Services
Copyright 2002 - 07 AL JAMIATUL ASHRAFIA All rights reserved