Select Language  
Alumni Login
Password
Forgot Password
Alumni Sign UP
Your E-mail Address:

About University

Committee

Education

Syllabus

Libraries

Departments

Schools

Other Services

Help Us

تخليقِ كائنات كے سلسلے ميں درخشنده ترين كڑي تخليقِ آدم هے۔ انسان كي تخليق كے بعد الله تعاليٰ نے اُسے اختيار سے نوازا، پھر نيكي اور بدي كے پيمانے مقرر كيے اور انساني هدايت كے ليے انبيا كي بعثت كا سلسله شروع هوا۔ يه نفوسِ قدسيه انسان كو يه بتانے كے ليے آتے رهے كه خدا كے نزديك بهتر اعمال كون سے هيں اور بد تر طريقهحيات كيا هے اور پھر آخري نبي صلي الله تعاليٰ عليه وسلم كو بھيج كر هدايت كي انتها كر دي ۔


خداے قدوس نے اپنے آپ كو رب العالمين كها تو نبيِ خاتم كو رحمۃ للعالمين قرار ديا۔ حضور صلي الله عليه وسلم تمام عالمين كي طرف رحمت بن كر آئے


وَمَا اَرسَلنٰكَ اِلَّا رَحمَۃً لِّلعٰلَمِينَ﴿الانبيائ!)&


 
اور هم نے تمھيں سارے جهان كے ليے رحمت بنا كر بھيجا۔


تمام جهانوں كے ليے رحمت وهي وجودِ اقدس و اعظم هو سكتا هے جس كي نوازشات انبياے بني اسرائيل كي طرح كسي ايك قوم سے مخصوص نه هوں، بلكه پوري كائنات انساني كو محيط هوں جو يه كهے:


٫٫يٰاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّيرَسُولُ اللّٰهِ اِلَيكُمجَمِيعًا٬٬ ﴿الاعراف:!%*


اے لوگوميں تم سب كي طرف الله كا رسول هوں۔


جس كي نوازشات اتني عام هوں كه يهوديوں جيسي بد انديش قوم كے ساتھ معاهدهامن و سلامتي كرتے هوئے كهے


٫٫يهود بھي مسلمانوں كي طرح ايك قوم سمجھي جائے گي ، جو ان سے لڑے گا مسلمان اُس كے خلاف يهوديوں كي مدد كريں گے۔٬٬


يه رحمۃ اللعالمين هي كي شان هے كه وه مغلوب عيسائيوں سے معاهده كرتے هوئے كهتے هيں كه:


٫٫نجران كے عيسائيوں كو خدا كي حفاظت اور محمد صلي الله عليه وسلم كي ذمه داري حاصل هوگي ۔ ان كے حقوق ميں سے كوئي حق بدلا نهيں جائے گا اور جو كچھ ان كے قبضه ميں هے ، اُس ميں كوئي تبديلي نهيں كي جائے گي ۔٬٬


رحمت عالم صلي الله عليه وسلم هي كي زبان سے يه الفاظ ادا     هو سكتے هيں كه:


٫٫لَا اِكرَاهَ فِيالدِّينِ قَدتَبَيَّنَ الرُّشدُ مِنَ الغيّ٬٬ ﴿البقرۃ


كچھ زبردستي نهيں دين ميں بے شك خوب جدا هو گئي هے نيك راه، گم راهي سے۔


كسي كو مجبور نهيں كيا جائے گا كه وه اپنا مذهب چھوڑ دے۔


 
بلا شبهه آپ صلي الله عليه وسلم نے بھي لڑائياں لڑي هيں مگر اصول يه تھا كه :اِنَّ النَّصرَ لِلمَظلُومِ﴿مظلوم كي هميشه مدد كي جائے گي﴾۔


آپ كي تلوار دفاع ميں بلند هوئي يا مظلوموں كي مدد كے ليے اٹھي يا اعلاے كلمۃ الله كے ليے ۔ آپ كي پوري زندگي ميں هوس ملك گيري كا كوئي شائبه نهيں۔ لوگ كهتے هيں:


All is fair in love and war.
٫٫جنگ اور محبت ميں سب كچھ جائز هے۔٬٬


مگر يه نبيِ رحمت تھے جنھوں نے جنگ كے ليے بھي يه ضابطه اخلاق ديا كه:


اور تم كو كسي قوم كي عداوت اس پر نه ابھارے كه انصاف نه كرو۔ انصاف كرو، وه پرهيز گاري سے زياده قريب هے۔﴿المائدۃ:


جناب سرور كونين صلي الله عليه وسلم چوں كه رحمۃ للعالمين بن كر آئے تھے اس ليے آپ نے هميشه معاشره كے كچلے هوئے طبقوں كا ساتھ ديا۔


اس وقت عرب كے معاشره ميں بالخصوص اور پوري دنيا ميں عورت كو انتهائي حقير خيال كيا جاتا تھا ۔ عرب ميں تو يه حالت تھي كه بيٹي كا پيدا هونا لعنت كا طوق سمجھا جاتا تھااور وه بيٹيوں كو زنده در گور بھي كر ديتے تھے ۔ قريش كے بر خود غلط گردن فرازوں كا شيوه بھي يهي تھا۔ قبيله بنو تميم ميں اس كا رواج سب سے زياده تھا ۔ اس قبيله كے رئيس قيس بن عاصم نے حضور صلي الله عليه وسلم كے سامنے اقرار كيا كه اُس نے اپنے هاتھ سے دس لڑكيوں كو زنده درگور كيا هے۔﴿ابن جرير ، ابن كثير، در منشور۔ سنن بيهقي ، مسند بزار، مصنف عبد الرزاق﴾خود مائيں يه كام سر انجام ديتي تھيں۔


آپ صلي الله عليه وسلم نے نه صرف اس ظلمِ عام كو هميشه كے ليے ختم كر ديا بلكه بيٹي كي پيدائش كو رحمت قرار ديا اور ا س كي پرورش كو نجات اخروي كا ذريعه بناديا۔ آپ كا فرمان هے:


٫٫جو دو لڑكيوں كي بھي پرورش كرے يهاں تك كه وه جوان   هو جائيں تو قيامت كے روز وه اس طرح ميرے ساتھ هوگا۔٬٬﴿آپ نے دو انگلياں اٹھائيں﴾۔﴿مشكوٰۃ بحواله صحيح مسلم﴾


صلحِ حديبيه كے بعد حكمِ خدا وندي كے تحت آپ عورتوں سے بيعت ليتے هوئے اس امر كا اقرار بھي كرواتے تھے:


٫٫وَلَا يَقتُلنَ اَولَادَھُنَّ٬٬﴿الممتحنه:


اور نه اپني اولاد كو قتل كريں گي۔


يه انھيں تعليمات كا اثر تھا كه بيٹيوں كي ولادت كو لوگ    نزولِ رحمت سمجھنے لگے اور آخر وه زمانه آيا كه ايك بدوي شاعر نے كهه ديا:


غذا الناس مذقام النبي الجواريا


پيغمبر كے بعد تو يه كثرت هو گئي كه سب لڑكياں هي لڑكياں نظر آتي تھيں۔


دنيا نے پهلي مرتبه آپ صلي الله عليه وسلم هي كي زبان سے سنا كه عورت اور مرد ايك دوسرے كے ليے برابر كي اهميت ركھتے هيں۔


٫٫ھُنَّ لِبَاسلَّكُموَاَنتُملِبَاسلَّھُنَّ﴿البقرۃ:


وه تمهارے ليے لباس هيں اور تم ان كے لباس۔


جب كه آپ صلي الله عليه وسلم سے پيش تر عورت كو حقير سمجھا جاتا تھا ۔ آپ نے بني نوع كو بتايا كه عورت كے بھي مرد كي طرح حقوق هيں۔


آپ صلي الله عليه وسلم نے امت سے اپنے خطاب خطبه حجۃ الوداع ميں بھي عورتوں كے حقوق اداكرنے پر زور ديا۔ عورتوں كے بعد دوسرا مظلوم طبقه غلاموں كا تھا۔ نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم نے غلاموں كي آزادي اور ان كے ساتھ حسنِ سلوك كو اپني انقلاب آفريں تحريك كا لازمي جزو بنا ليا تھا ۔ مكي اور مدني زندگي ميں فروگزاشتوں پر كفاره غلاموں كي آزادي كو قرار ديا ۔ غلاموں كو آزاد كرانے كي ترغيب اس شد و مد سے دي گئي كه مال دار صحابه غلام خريد خريد كر آزاد كرنے ميں ايك دوسرے سے سبقت لے جانے كي كوشش كرنے لگے۔ حضرت حكيم ابن حزام فتحِ مكه كے روز ايمان لائے ۔ انھوں نے قبولِ اسلام كے بعد سو غلام آزاد كيے۔﴿صحيح مسلم، كتاب الايمان﴾حضرت عائشه صديقه رضي الله عنها نے صرف ايك قسم كے كفاره ميں چاليس غلام آزاد كيے۔﴿بخاري كتاب الآداب﴾۔ حضرت عبد الله بن عمر رضي الله عنه نے ايك هزار اور حضرت عبد الرحمن بن عوف نے تيس هزار غلاموں كو آزادي كي نعمت سے بهره ور كيا﴿شرح بلوغ المرام كتاب العتق﴾۔


قرآن كريم ميں جا به جا غلاموں كو آزادي عطا كرنے كي ترغيب دي گئي هے اور صحابه رضي الله عنهم نے ان ترغيبات پر غلام آزاد بھي كيے ، پھر بھي جو لوگ بچ رهے ان كے ساتھ ايسے حسنِ سلوك كا حكم ديا گيا كه غلام اور آقا كي تميز مٹ گئي۔ آپ صلي الله عليه وسلم فرمايا كرتے تھے:


٫٫غلام سے اتنا هي كام لو جتنا وه كر سكتا هے اور جب اس سے كوئي كام لو تو اس كے ساتھ مل كر كام كرو تاكه وه ذلت محسوس نه كرے اور جب سفر كرو تو يا اسے اپنے ساتھ بٹھاويا اس كے ساتھ باري مقرر كر لو۔٬٬﴿مسلم كتاب الايمان﴾


حضرت مفرد بن سويدروايت كرتے هيں:


٫٫ميںنے حضرت ابوذر غفاري رضي الله عنه كو ديكھا جيسے اُن كے كپڑے تھے ويسے هي اُن كے غلام كے تھے۔ ميں نے وجه پوچھي تو كهنے لگے كه حضور صلي الله عليه وسلم كے زمانے ميں ميں نے ايك شخص كو اس كي ماں كا طعنه ديا جو لونڈي تھي، اس پر رسولِ خدا نے فرمايا تو ايسا شخص هے جس ميں جهالت كي باتيں پائي جاتي هيں ۔ غلام كيا هيں، تمھارے بھائي هيں اور قوت كا ذريعه هيں ۔ خدا كي كسي حكمت كے تحت كچھ عرصه كے ليے تمهارے قبضه ميں آجاتے هيں ، پس جس كا بھائي اُس كي خدمت تلے آجائے اسے چاهيے كه جو كچھ وه خود كھاتا هے اُسے كھلائے اور جو خود پهنتا هے اسے پهنائے۔ اس سے اس كي طاقت سے زياده كام نه لے اور جب تم انھيں كوئي كام بتاوتو خود بھي اس كے ساتھ كرنے لگو۔٬٬﴿مسلم كتاب الايمان﴾


اسي طرح آپ صلي الله عليه وسلم فرمايا كرتے تھے:


٫٫جب تمهارا غلام تمهارے ليے كھانا لائے تو اُسے اپنے پاس بٹھا كر كم از كم تھوڑا سا كھانا ضرور كھلايا كرو، كيوں كه اس نے خدمت سے اپنا حق قائم كر ليا هے۔٬٬﴿مسلم كتاب الايمان﴾


روزانه كي قتل و غارت اور باهمي جنگ و جدال كے باعث عرب كے معاشره ميں يتيم به كثرت تھے اور ان كے ساتھ طرح طرح كے مظالم روا ركھے جاتے تھے ۔ انھيں باپ كي وراثت سے محروم  كر ديا جاتا تھا ۔ عرب چھوٹے بچوں كو وراثت نهيں ديا كرتے تھے۔﴿تفسير ابن جرير طبري، سورهنسا،جلد:4﴾قرآن حكيم نے ان لوگوں كي اس غاصبانه ذهنيت پر بار بار انھيں مجرم ٹھهرايا هے:


وَتَاكُلُونَ التُّرَاثَ اَكلًا لَّمَّا وَّ تُحِبُّونَ المَالَ حُبًّا جَمَّا﴿الفجر:!(


اور ميراث كا مال هپ هپ كھاتے هو اور مال كي نهايت محبت ركھتے هو۔


نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم نے خدا كے احكامِ وراثت پهنچائے تو يتيموں كے متوليوں كو الله كي يه هدايت بھي پهنچائي:


وَاٰتُوا اليَتٰمٰي اَموَالَھُموَلَا تَتَبَدَّلُوا الخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ وَلَا تَاكُلُوا اَموَالَھُماِليٰ اَموَالِكُماِنَّهكَانَ حُوبًا كَبِيرًا﴿النسائ:@


 
اور يتيموں كو ان كے مال دو اور ستھرے كے بدلے گندا نه لو اور ان كے مال اور اپنے مالوں ميں ملا كر نه كھا جاو، بے شك يه بڑا گناه هے ۔


متوليوں كو يه هدايت بھي كي گئي كه جب تك يتيم بڑے هو كر اپنا مال سنبھالنے كے قابل نه هوں اپنے مال كي طرح اُن كے مال كي حفاظت كيا كرو:


وَلَا تُوتُو السُّفَھَائَ اَموَالَكُمُ الَّتِيجَعَلَ اللّٰهُ لَكُمُ القِيٰمًا وَّرزُقُوھُمفِيھَا وَاكسُوھُموَقُولُوا لَھُمقَولًا مَّعرُوفًاوَابتَلُوا اليَتٰمٰي حَتّٰي اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَاِناٰنَستُممِئُھُمرُشدًا فَادفَعُوا اِلَيھِماَموَالَھُم﴿النسائ:%


 
اور بے عقلوں كو ان كے مال نه دو جو تمهارے پاس هيں جن كو الله نے تمهاري بسر اوقات كيا هے اور انھيں اس ميں سے كھلاواور پهناواور ان سے اچھي بات كهو اور يتيموں كو آزماتے رهو، يهاں تك كه جب وه نكاح كے قابل هوں تو اگر تم ان كي سمجھ ٹھيك ديكھو تو ان كے مال انھيں سپرد كر دو۔


جو متولي اس خيال سے كه بڑے هو كر يتيم اپنا مال واپس لينے كا مطالبه نه كريں ان كي صغر سني ميں هي ان كا مال خرچ كر ديتے تھے ، انھيں تنبيه فرمائي گئي:


وَلَا تَاكُلُوھَا اِسرَافًا وَّبِدَارًا اَنيَّكبَرُوا﴿النسائ:^


 
اور انھيں نه كھاوحد سے بڑھ كر اور اس جلدي ميں كه كهيں بڑے نه هو جائيں۔


دوسرے مقام پر ارشاد هوا:


وَلَا تَقرَبُوا مَالَ اليَتِيمِ اِلَّا بِالَّتِيھِيَ اَحسَنُ حَتّٰي يَبلُغَ اَشُدَّه﴿الانعام:!%@


 
اور يتيم كے مال كے پاس نه جاومگر بهت اچھے طريقے سے جب تك وه اپني جواني كو نه پهنچے۔


يه هدايات تو ان يتيموں كے متعلق تھيں جن كے مورث مال دار تھے اور تركے چھوڑ گئے تھے ۔ رهے وه يتيم جو بد حال اور مفلس تھے تو ان كي مدد اور ان كے ساتھ حسنِ سلوك كي بار بار تاكيد كي گئي هے۔ ارشادِ خدا وندي هے:


اَرَئَيتَ الَّذِييُكَذِّبُ بِالدِّينِفَذٰلِكَ الَّذِييَدُعُ اليَتِيمَ﴿الماعون:!


 
بھلا ديكھو جو دين كو جھٹلاتا هے ، پھر وه هے جو يتيم كو دھكے ديتا هے ۔


اس كے علاوه قرآن پاك نے بقره، نسا، انفال اور حشر ميں بار بار ان كي پرورش اور ان كے ساتھ حسنِ سلوك اور احسان كي تاكيد كي اور زكوٰۃ و صدقات كے مصارف ميں ايك بهترين مصرف يتاميٰ قرار ديے گئے۔انھيں تعليمات كے پيشِ نظر نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم نے بار بار يتيموں كي كفالت كي ترغيب دي۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا:


٫٫يتيم كي كفالت كرنے والا قيامت كے روز ميرے اس طرح قريب هوگا ۔٬٬﴿ آپ صلي الله عليه وسلم نے دو انگلياں باهم جوڑ كر اٹھائيں﴾﴿صحيح بخاري، صحيح مسلم باب فضل﴾


آپ صلي الله عليه وسلم كي تعليمات هي كا اثر تھا كه ايك ايك يتيم كي كفالت كے ليے بيسيوں گھر لپكنے لگے اور صحابه كے گھر يتيموں كے ليے وا هو گئے ۔ حضرت عبد الله بن عمر رضي الله عنه كا حال يه تھا كه كسي يتيم بچے كو ساتھ ليے بغير كبھي كھانا نهيں كھاتے تھے۔﴿ادب المفرد امام بخاري﴾


اسلامي معاشرے ميںيتيموںكي خاطر ايثار كي تحريك اس زور سے ابھري كه كوئي بے سهارا نه رها ۔ يتيم كي آنكھ كا آنسو سيكڑوں دلوں كو لرزا ديتا تھا ۔ ايك دفعه ايك يتيم نے كسي نخلستان كے متعلق دعويٰ دائر كيا مگر قانوني طريقے سے وه اپنا حق ثابت نه كر سكا۔ اس ليے حضور صلي الله عليه وسلم نے وه نخلستان مدعيٰ عليه كے حوالے كرنے كا فيصله فرمايا۔ فيصله سن كر يتيم كي آنكھوں ميں آنسو آگئے۔ يتيم عبد الله در يتيم جناب رحمتِ كائنات نے ان اشكوں كي سوزش دل ميں محسوس كي   


مرا باشد از درد طفلاں خبر كه در طفلي از سر برفتم پدر


آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا كه تم يه نخلستان اس يتيم كو دے دو ، اس كا اجر تمھيں الله تعاليٰ جنت ميں دے گا۔ مگر وه شخص آماده نه هوا ۔ حضرت ابو الاحداح رضي الله عنه وهاں موجود تھے ۔ انھوں نے كها تم ميرے فلاں باغ سے يه نخلستان بدلتے هو ، وه راضي هو گيا۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے نخلستان اُس يتيم كو هبه كر ديا۔﴿الاستيعاب لابن عبد البر تذكره ابو لاحداح﴾


اس وقت كي پوري انساني دنيا ميں يتيموں كے بعد بيواوں كا طبقه بهت مظلوم تھا۔ يهودي تمدن خاوند كے مرنے كے بعد بيوه عورت كو مرنے والے كے بھائي كي ملكيت ميں دے ديتا تھا ۔ عيسائيت نے يه ظلم تو روا نه ركھا مگر كوئي ايجابي طريقه بھي بروے عمل نه لا سكي۔ هندو مت ميں تو خاوند كے بعد عورت سے زنده رهنے كا حق بھي چھين ليا جاتا تھا اور اُسے ستي هونا پڑتا تھا ۔ اهلِ عرب بيوه كو مرنے والے كے وارثو ں كي ملكيت قرار ديتے تھے۔ وه جو چاهتے اس كے ساتھ روا ركھتے ، وه ان كي اجازت كے بغير كهيں شادي نهيں كر سكتي تھي۔


نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم نے اس طبقه كي بھي دست گيري فرمائي ۔ عورت كے حق مهر كو دين كي طرح ادا كرنا ضروري ٹھهرايا اور اس كے بعد وراثت ميں اس كا حصه مقرر هوا۔ اگر وه صاحبِ اولاد هو تو اس كا آٹھواں حصه اور اگر صاحب، اولاد نه هو تو چوتھائي حصه حقِ وراثت ٹھهرا۔ مقرره عدت كے بعد اُسے مكمل آزادي حاصل هو گئي كه وه جهاں چاهے شادي كرے۔عرب بيوه عورت كو منحوس تصور كرتے تھے۔آپ صلي الله عليه وسلم نے اس باطل تصور كا قلع قمع كر ديا۔ خود عين عالمِ شباب ميں ايك ادھيڑ عمر بيوه حضرت خديجه رضي الله عنها سے شادي كي۔ ان كي وفات كے بعد وقتاً فوقتاً دس عورتوں سے نكاح كيے جن ميں سے آٹھ حضرت حفصه، حضرت سوده، حضرت زينب ام المساكين، حضرت ام سلمه،حضرت جويريه، حضرت ام حبيبه، حضرت ميمونه اور حضرت صفيه رضي الله عنهما بيوه تھيں۔ اس طرح بيوه عورتوں كي كفالت كرنا اور انھيںحبالهعقد ميں لے لينا طريقهمسنونه هو گيا اور صحابه رضي الله عنهم نے اس پر عمل كيا۔ كچھ ايسي بيوه عورتيں بھي هوتي هيں جو اپنے ننھے بچوں كي پرورش اور محبت كے خيال سے عقدِ ثاني نهيں كرتيں ، محنت مزدوري كر كے بچوں كا پيٹ پالتي هيں اور اپني عزت كي حفاظت كرتي هيں ۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے انھيں بھي بهت بلند مقام عطا فرمايا۔ ارشاد هوتا هے:


٫٫ميںاور وه بيوه جو محنت و مشقت كے باعث كالي پڑ گئي هے قيامت كے روز ان دو انگليوں كي طرح قريب هوں گے ۔ وه حسن و جمال اور عزت كي حفاظت كرنے والي بيوه جو شوهر كے مرنے كے بعد اپنے ننھے يتيم بچوں كي خدمت كي خاطر اپنے كو روكے ركھے ، يهاں تك كه وه اس سے علاحده هو جائيں يا مر جائيں۔٬٬﴿سنن ابي داود، كتاب الادب﴾


اس چيز كو آپ نے تمثيلي انداز ميں يوں بھي بيان فرمايا:


٫٫قيامت كے دن ميں سب سے پهلے جنت كا دروازه كھولوں گا تو ديكھوں گا كه ايك عورت مجھ سے بھي پهلے اندر جانا چاهتي هے ۔ ميں پوچھوں گا كه تو كون هے تو وه بتائے گي ، ميں وه بيوه هوں جس كے ننھے يتيم بچے تھے اور جس نے اپنے آپ كو روكے ركھا۔٬٬ ﴿مسند ابو يعلي، حاشيه سنن ابو داود﴾


اس كے علاوه معاشره ميںايسي ازكار رفته بيوائيں بھي تھيں جو نكاح كے قابل نه تھيں اور جن كا كوئي پرسانِ حال نه تھا ، ان كي امداد كو آپ صلي الله عليه وسلم نے بهت بڑا عمل قرار ديا۔


٫٫بيوه اور مسكين كے ليے دوڑ دھوپ كرنے والا ايسا هے جيسا خدا كي راه ميں جهاد كرنے والا﴿ راوي كهتا هے ، ميرا خيال هے آپ صلي الله عليه وسلم نے يه بھي فرمايا تھا ﴾ اور جيسا وه نمازي جو نماز سے نهيں تھكتا اور وه روزه دار جو كبھي روزه نهيں كھولتا۔٬٬﴿صحيح بخاري، صحيح مسلم، موطا امام مالك﴾


اسلام كے مختصر سے عهدِ رحمت كو ايك طرف ركھ ديا جائے تو پوري تاريخِ تمدن يه گواهي دے گي كه هر دور ميں دولت اور زر و مال كو هي عزت و تكريم كا معيار قرار ديا گيا۔ اهلِ مال و زر كا هر سوسائٹي ميں خنده پيشاني سے استقبال كيا گيا اور ان كے احترام ميں گردنيں جھكتي رهيں اور هر معاشرے ميں زر كو هي حاجت روا سمجھا گيا۔


دولت مند لوگ تو الگ رهے ۔ متوسط طبقه كے لوگ بھي غريبوں ميںبيٹھنا اپني توهين سمجھتے رهے ۔ نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم نے معاشره كي تمام اقدار كي طرح اس قدر كو بھي بدل ديا اور غريبوں سے محبت كو اپنا شعار بنايا اور معاشره ميں انھيں بلند مقام دينے كي سعي فرمائي۔


٫٫ايك دفعه آپ صلي الله عليه وسلم بيٹھے هوئے تھے كه ايك امير آدمي سامنے سے گزرا۔ آپ نے اپنے پاس بيٹھے هوئے صحابي سے فرمايا۔ اس شخص كے متعلق تيري كيا راے هے؟ اس نے جواب ديا۔٬٬


يه شخص معزز اور صاحبِ حيثيت هے ۔ اگر يه كسي لڑكي سے نكاح كي خواهش كرے تو اس كي خواهش كا احترام كيا جائے گا۔ اگر كسي كي سفارش كرے تو اس كي بات ماني جائے گي ۔٬٬ آپ صلي الله عليه وسلم يه سن كر خاموش رهے۔ اتنے ميں ايك غريب آدمي كا ادھر سے گزر هوا۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے پھر پوچھا ۔٫٫اس كے متعلق تيري كيا راے هے؟٬٬ اس نے كها:٫٫يا رسول الله يه ايك غريب آدمي هے اور اس قابل هے كه اگر كسي لڑكي سے نكاح كي خواهش كرے تو اس كي خواهش رد كر دي جائے، اگر كسي كي سفارش كرے تو اس كي سفارش قبول نه كي جائے، بلكه يه بات كرنا چاهے تو اس كي باتوں كي طرف توجه نه دي جائے۔٬٬آپ نے فرمايا: اس غريب آدمي كي قيمت اس سے بھي زياده هے كه دنيا سونے سے بھر دي جائے۔٬٬﴿بخاري كتاب الرقاق﴾


٫٫ايك غريب عورت مسجد كي صفائي كيا كرتي تھي ۔ حضور صلي الله عليه وسلم نے كچھ روز اسے نه ديكھا تو اس كے متعلق پوچھا ۔ صحابه رضي الله عنهم نے كها :٫٫يا رسول اللهوه فوت هو گئي هے۔٬٬ آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا:٫٫جب وه فوت هو گئي تو تم نے مجھے كيوں نهيں بتايا، شايد اس ليے كه وه بے چاري غريب تھي، ميں اس كے جنازه ميں بھي شريك نه هو سكا ۔ تم نے غربت كے باعث اُسے حقير سمجھا ۔ يه درست نهيں۔ مجھے بتاو، اس كي قبر كهاں هے۔٬٬ پھر آپ صلي الله عليه وسلم اس كي قبر پر گئے اور اس كي نمازِ جنازه پڑھي۔٬٬﴿بخاري كتاب الصلوٰۃ﴾


آپ كا يه فرمان بهت معروف هے:


٫٫بهت سے لوگ ايسے هوتے هيں كه سر كے بال پراگنده هيں، جسم خاك آلود هيں ، اگر وه لوگوں سے ملنے جائيں تو لوگ دروازے بند كر ليتے هيں ليكن اگر وه قسم كھا بيٹھيں تو ان كي قسم كا اس قدر احترام هوتا هے كه الله اسے پوري كر كے چھوڑتا هے۔٬٬﴿صحيح مسلم﴾


ايك روايت هے:٫٫ايك دفعه حضور صلي الله عليه وسلم كے كچھ غريب صحابه رضي الله عنهم جو كسي وقت غلام هوا كرتے تھے اكٹھے بيٹھے تھے۔ ابو سفيان ان كے سامنے سے گزرے تو انھوں نے اسلام كي فتح كا كچھ ذكر كيا۔ حضرت ابو بكر صديق رضي الله عنه سن رهے تھے ۔ انھيں يه بات بري معلوم هوئي۔ انھوں نے ابو سفيان رضي الله عنه كي هتك سمجھتے هوئے غريب صحابه كو ڈانٹ كر كها ۔ تم قريش كے سردار كي هتك كرتے هو؟ پھر وهي بات انھوں نے حضور صلي الله عليه وسلم سے شكايۃً بيان كي ۔ نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم نے فرمايا۔ اے ابو بكرشايد تم نے خدا كے ان خاص بندوں كو ناراض كر ديا هے ، اگر ايسا هوا تو ياد ركھو تمهارا رب بھي تم سے ناراض هو جائے گا ۔ حضرت ابو بكر رضي الله عنه فوراً اٹھے، ان لوگوں كے پاس گئے اور كها،٫٫ اے ميرے بھائيوكهيں تم ميري بات پر مجھ سے ناراض تو نهيں هو گئے ؟٬٬ انھوں نے كها:٫٫اے ميرے بھائي، هم ناراض نهيں، خدا آپ كي خطا معاف فرمائے۔٬٬﴿مسلم كتاب الفضائل﴾


٫٫ايك دفعه آپ بازار ميں جا رهے تھے كه آپ كي نظر اپنے ايك غريب صحابي پر پڑي ۔ گرمي ميں بوجھ اٹھا اٹھا كر ادھر سے ادھر لاتے هوئے، گرد و غبار اور پسينه كي وجه سے ان كا چهرا صاف ستھرا نه تھا ۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے ان كے چهرے پر افسردگي كي علامات ديكھيں۔ خاموشي سے پيچھے پهنچ كر ان كي آنكھوں پر هاتھ ركھ ديا۔ جيسے بچے شوخي ميں اپنے ساتھيوں سے ايسا كرتے هيں ، تاكه ديكھيں وه هاتھ ركھنے والے كا نام بتا سكتا هے يا نهيں۔ صحابي رضي الله عنه نے آپ صلي الله عليه وسلم كے بازووں كو ٹٹولا اور سمجھ گيا كه رسولِ خدا صلي الله عليه وسلم هيں۔ يوں بھي وه سمجھ هي ليتا كيوں كه وه جانتا تھا كه ايسے بد حال آدمي كے ساتھ حضور كے سوا اور كون اتني محبت كا سلوك كر سكتا هے۔ اس نے اپنا خاك اور پسينه سے لتھڑا هوا جسم آپ صلي الله عليه وسلم كے كپڑوں سے ملنا شروع كيا۔ شايد ناز كر رها تھا۔ آپ مسكراتے رهے اور اسے اس حركت سے منع نه كيا۔ جب وه جي بھر كر آپ كے كپڑوں كو خراب كر چكا تو آپ نے مذاقاً فرمايا۔ ميرے پاس ايك غلام هے، كوئي اس كا خريدار هے ؟ معاً صحابي كو احساس هوا كه حضور صلي الله عليه وسلم كے سوا ان سے كون محبت كر سكتا هے ۔ اس نے كها ۔ يا رسول اللهميرا خريدار دنيا ميں كوئي نهيں ۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے بڑي محبت سے كها، نهيں ، ايسا نه كهو ۔ خدا كے نزديك تمهاري قيمت بهت زياده هے۔٬٬ ﴿مشكوٰۃ باب المزاح﴾


يه اس ليے كه آپ نے عزت و تكريم كا نيا معيار قائم كر ديا تھا اور خدا كا قائم كرده معيار تھا بھي يهي:


اِنَّ اَكرَمَكُمعِندَ اللّٰهِ اَتقٰكُم﴿الحجرات:!#


 
بے شك الله كے يهاں تم ميں زياده عزت والا وه هے جو تم ميں زياده پرهيز گار هے۔


آپ صلي الله عليه وسلم غريبوں كي حاجت پوري كرنے كي برابر ترغيب ديتے رهتے ۔ آپ كا فرمان هے:


٫٫جو شخص اپنے بھائي كي حاجت پوري كرنے ميں لگا رهے گا تو خدا اس كي ضرورت پوري كرے گا اور جو كوئي كسي مسلمان كي مصيبتوں ميں سے كوئي مصيبت دور كرے گا تو الله تعاليٰ قيامت كي مصيبتوں ميں سے كوئي مصيبت اس سے دور فرما دے گا۔٬٬﴿بخاري و مسلم﴾


ايك اور روايت ميں هے كه آپ نے فرمايا:


٫٫الله اپنے بندوں كي مدد ميں اس وقت تك رهتا هے جب تك بنده اپنے بھائي كي مدد ميں رهتا هے۔٬٬﴿بخاري﴾


آپ صلي الله عليه وسلم فرمايا كرتے تھے:


٫٫زمين پر رهنے والوں پر رحم كرو، تم پر آسمان كا مالك رحم كرے گا۔٬٬


حاجت مند كا پراگنده حال چهره ديكھ كر هي آپ صلي الله عليه وسلم اس كي حاجت سمجھ جاتے تھے ۔ حضرت ابو هريره رضي الله عنه سے روايت هے كه ميں هر وقت مسجد ميں رهتا تھا تاكه حضور صلي الله عليه وسلم جب بھي كوئي بات كريں ميں اسے سننے سے محروم نه رهوں ۔ كچھ روز تو ميرے بھائي نے مجھے مسجد ميں كھانا پهنچايا پھر اس نے بند كر ديا ۔ اس وجه سے بعض دفعه كئي كئي وقت كا فاقه هو جاتا تھا ۔ايك دن اسي طرح كا فاقه تھا ، ميں بھوك سے بے تاب كھڑكي ميں كھڑا هو گيا ۔ اتنے ميں حضرت ابو بكر صديق رضي الله عنه گزرے ، ميں نے انھيں روك كر كها، آيهوَيُوثِرُونَ عَلٰي اَنفُسِھِموَلَوكَانَ بِھِمخَصَاصَۃ﴿الحشر﴾  كا كيا مطلب هے ۔ انھوں نے كها، يهي كه دوسروں كا بهت خيال ركھتے هيں، خود بھوكے رهتے هيں اور اپنا كھانا دوسروں كو ديتے هيں ۔ يه كهه كر آپ چلے گئے ۔ مجھے غصه آگيا كه وه ميرا مطلب كيوں نهيں سمجھے۔ اتنے ميں جناب فاروق رضي الله عنه كا ادھر سے گزر هوا، مگر ان كے ساتھ بھي وهي كچھ هوا۔ ميں نے آيت كا مطلب پوچھا ، وه بتا كر چلے گئے۔ ميں غصه ميں كھڑا تھا كه حضور صلي الله عليه وسلم نے آواز دي۔٫٫ابو هريرهبھوكے هو؟٬٬ ميں نے عرض كيا:٫٫جي هاں، يا رسول الله سخت بھوكا هوں۔٬٬ آپ نے فرمايا:٫٫ميں بھي بھوكا تھا۔ ايك دوست نے دودھ كا پياله بھيج ديا هے ، آومل كر پي ليتے هيں۔٬٬ ميں آپ كي طرف چلنے لگا تو آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا:٫٫مسجد ميں ديكھ لو، شايد كچھ اور لوگ بھي بھوكے هوں ، ان كو بھي ساتھ ليتے آو۔٬٬ مسجد ميں ميرے جيسے چھ آدمي اور بھي موجود تھے ۔ مجھے بهت افسوس هوا كه اب شايد دو گھونٹ هي حصه ميں آئے۔ هم حضور صلي الله عليه وسلم كے پاس گئے تو حضورنے ميرے بجاے ايك اور شخص كو دودھ كا پياله تھما ديا ۔ جب وه آدمي پي چكا تو آپ نے اس سے پياله لے كر دوسرے شخص كو دے ديا ۔ پھر تيسرے، چوتھے،پانچويںاور چھٹے كو دے ديا ۔ مگر ان چھ كے پي چكنے كے بعد بھي جب پياله ميرے پاس آيا تو لبالب بھرا هوا تھا ، ميں نے خوب پيا۔ جب ميں پياله واپس كرنے لگا تو آپ نے فرمايا، اور پيو۔ ميں نے پھر پيا۔ آپ نے فرمايا، اور پي لو ۔ ميں نے عرض كيا۔ يا رسول الله اب تو ميري انگليوں سے بھي دودھ نكلنے لگا هے ۔ آپ نے پياله لے ليا اور باقي مانده دودھ خود پي ليا۔٬٬﴿مشكوٰۃ﴾


يه تھے وه نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم جنھوں نے غريبوں كے ساتھ محبت اور حاجت مندوں كي حاجت روائي كے ليے سعيِ مسلسل كي طرف اس دل ربا انداز ميں ترغيب دي كه زر كے بهاوكا رخ اميروں كي طرف سے غريبوں كي طرف هو گيا اور صدقات و غنائم كي اس طرح تقسيم كي كه اپنے گھر ميں ايك درهم ركھنا بھي گوارا نه تھا۔


٫٫ايك دفعه كچھ مال آيا ۔ آپ نے غريبوں ميں تقسيم كيا اور نماز پڑھنے مسجد ميں تشريف لے گئے ۔ نماز ختم هوئي تو آپ خلافِ معمول بڑي عجلت ميں اٹھے اور لوگوں كے كندھے پھلانگتے هوئے گھر تشريف لے گئے ۔ واپس آئے تو دينار هاتھ ميں تھا ۔ وه كسي مستحق كو دينے كے بعد بتايا۔ يه دينار گھر ميں تھا، نماز پڑھتے هوئے ياد آيا تو ميں اس خيال سے بے چين هو گيا كه اگر اس حال ميں مجھے موت آگئي كه لوگوں كا مال ميرے گھر ميں پڑا هو تو خدا كو كيا جواب دوں گا۔ اس ليے جلدي جلدي اسے اٹھا لايا اور مال حق دار كو پهنچا ديا۔٬٬﴿بخاري شريف باب احب تعجيل الصدقه﴾


 
نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم چوں كه رحمۃ للعالمين هيں اس ليے آپ كي رحمت جانوروں اور نباتات كو بھي محيط رهي۔ اهلِ عرب اپني وحشت اور سنگ دلي كے باعث جانوروں پر طرح طرح كے ستم ڈھاتے تھے ۔ اپني فياضي كي دھاك بٹھانے كے ليے دو آدمي شرط باندھ كر كھڑے هو جاتے تھے اور جانوروں كو اندھا دھند مار مار كر گراتے چلے جاتے تھے اور لوگوں كو كها جاتا تھا تم انھيں كھاو، جو تھك جاتا اسے شكست هو جاتي۔ ايك اور ظالمانه رواج يه بھي تھا كه جب كوئي شخص مر جاتا تو اس كي سواري كا جانور اس كي قبر پر باندھ ديا جاتا اور اسے خوراك پاني نه ديا جاتا حتي كه بھوك اور پياس سے نڈھال هو كر وه مر جاتا ۔ ايسے جانور كو بليه كها جاتا تھا ۔ ايك رواج يه بھي تھا كه جانور كوكسي چيز سے باندھ كر نشانه لگاتے۔ نبيِ رحمت تشريف لائے تو آپ صلي الله عليه وسلم نے ان تمام صورتوں كو ختم كر ديا  اور لوگوں ميں جانوروں پر رحم كرنے كے جذبات بيدار كيے۔ آپ نے بے ضرورت كسي جانور كو قتل كرنا بهت بڑا گناه قرار ديا۔﴿مستدرك حاكم﴾


٫٫كسي نے اگر چڑيا يا اس سے چھوٹے جانور كو ناحق ذبح كيا تو خدا اس كے متعلق ضرور باز پرس كرے گا ۔ صحابه رضي الله عنهم نے عرض كيا ، يا رسول اللهاس كا حق كيا هے ؟فرمايايهي كه اسے ضرورت هو اور وه اسے ذبح كر كے كھائے ، يه نهيں كه اس كا سر كاٹ كر پھينك دے ۔٬٬﴿مشكوٰۃ باب الصيد و الذبائح﴾


اس روايت سے معلوم هوتا هے كه جس جانور كا گوشت كھايا نهيں جاتا اور وه نقصان ده درنده بھي نهيں تو اس كا مارنا جائز نهيں۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا:


٫٫جو شخص كسي چڑيا كو بلا ضرورت مارے گا وه قيامت كے دن خدا كے هاں فرياد كرے گي كه فلاں شخص نے مجھے بے ضرورت قتل كيا ، اسے ميري جان لينے سے كوئي فائده نه تھا۔٬٬﴿سنن نسائي كتاب الضحايا﴾


گويا جو جانور اذيت رساں نهيں اور ان كي جان لينے سے انسانوں كو كوئي فائده نهيں ان كا مارنا جائز نهيں۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے چيونٹي، شهد كي مكھي اورهد هد كو مارنے سے بالخصوص منع كر ديا تھا۔


﴿مشكوٰۃ كتاب الصيد و الذبائح﴾


جو جانور ضرورتاً ذبح كيے جاتے هيں، ان كے متعلق بھي يه حكم هے كه انتهائي نرمي برتي جائے۔ انھيں اذيت دے كر ختم نه كيا جائے۔ آپ صلي الله عليه وسلم كا ارشاد هے:


٫٫خدا كا حكم هے كه هر چيز پر احسان كيا جائے ، اس ليے جب تم لوگ كسي جانور كو مارو تو اچھے طريقے سے مارو اور ذبح كرو تو احسن طريقه سے ذبح كرو ، تم ميں هر شخص كي چھري تيز هو تاكه ذبيحه كو آرام پهنچائے۔٬٬﴿مسلم كتاب الصيد و الذبائح﴾


ايك روايت ميں هے كه ايك صحابي رضي الله عنه نے عرض كيا:


٫٫يا رسول الله ميں بكري كو ذبح كرنے لگوں تو مجھے اس پر رحم آجاتا هے ۔آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا اگر تم بكري پر رحم كرتے هو تو خدا تم پر رحم كرے گا۔٬٬﴿مسند احمد ابن حنبل﴾


جانوروں پر ظلم كي هر صورت آپ نے ناجائز قرار دي ۔ ايك دفعه آپ صحابه كے ساتھ كسي سفر كے پڑاوميں تھے ۔ آپ ضرورت سے كهيں تشريف لے گئے ، واپس آئے تو ديكھا كه چولها ايك ايسي جگه جل رها هے جهاں زمين ميں يا ساتھ كے درخت پر چيونٹيوں كا ٹھكانا تھا ۔ آپ نے پوچھا تو ايك صاحب نے كها، يا رسول اللهميں نے چولھا جلايا هے ۔ آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا بجھاوبجھاو۔﴿مسند احمد بن حنبل﴾


ايك روايت ميں هے كه آپ صلي الله عليه وسلم جهاد كے كسي سفر پر جا رهے تھے ، راستے ميں قيام كيا۔ آپ صلي الله عليه وسلم  رفع حاجت كے ليے گئے ۔ كسي صحابي نے چڑيا كے دو بچے پكڑ ليے ۔چڑيا بے قراري سے چيختي هوئي اس كے گرد منڈلانے لگي۔ نبيِ رحمت صلي الله عليه وسلم واپس آئے تو چڑيا كي آه و زاري سني۔ فرمايا، جس نے بھي اس كے بچے پكڑ كر اسے بے قرار كيا هے اسے چاهيے كه اس كے بچے چھوڑ دے۔


ايك دفعه آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا:٫٫ايك پيغمبر كسي درخت كے نيچے آرام كر رهے تھے كه انھيں ايك چيونٹي نے كاٹ ليا ، انھوں نے اٹھ كر اپنا سامان وهاں سے هٹايا، پھر تمام چيونٹيوں كو آگ سے جلا ديا ۔ اس پر خدا نے وحي كے ذريعه انھيں تنبيه كي كه صرف ايك هي چيونٹي كو كيوں نهيں هلاك كيا۔٬٬﴿مسند احمد بن حنبل﴾


ايك دفعه ايك عورت كا ذكر كرتے هوئے آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا كه ٫٫وه صرف اس ليے مستحقِ عذاب هوئي كه اس نے ايك بلي كو پكڑ كر اسے باندھ ديا تھا اور اسے بھوكا پياسا ركھا تھا ، حتي كه وه بندھي بندھي مر گئي۔٬٬﴿بخاري كتاب الانبيا﴾


چوں كه لوگ دانسته يا نا دانسته جانوروں كو ستاتے هيں اس ليے آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمايا:


٫٫تم لوگ جانوروں كے ساتھ جو بد سلوكياں روا ركھتے هو ، اگر الله تمھيں معاف كر دے تو يه سمجھ لو كه اس نے تمهارے بهت سے گناه معاف كر ديے۔٬٬﴿مسند احمد بن حنبل﴾


صحابه كرام رضي الله عنهم تك اس شخص كے پيچھے پڑ جاتے تھے جو ايسے فعل كا مرتكب هوتا۔ ايك دفعه ايك لڑكا ايك مرغي كو باندھ كر نشانه بنا رها تھا ۔ حضرت عبد الله بن عمر رضي الله عنه نے مرغي كو كھول ديا اور مرغي كے ساتھ اس لڑكے كو لے كر اس كے گھر آئے اور گھر والوں كو بلا كر كها ، لڑكے كو سمجھا دو كه ايسي حركتوں سے باز آئے ، كيوں كه حضور صلي الله عليه وسلم نے اس طرح سے جان دار كو نشانه بنانے كي ممانعت فرمائي هے۔﴿ترمذي باب ماجائ في كراهته اكل ا  لصبور﴾


صرف جانوروں هي سے نهيں نبيِ رحمت نے روئيدگي اور نباتات كي صحيح پرورش اور خدمت كو باعث ثواب كها هے۔ آپ صلي الله عليه وسلم كا ارشاد هے ، جو مسلمان درخت نصب كرتا هے يا كھيتي باڑي كرتا هے ، اور اس كو پرندے ، انسان يا چوپائے كھاتے هيں تو يه بھي صدقه هے اور ثواب كا موجب هے۔٬٬﴿بخاري ابواب الحرث والمزارعۃ﴾


يهاں سے واضح هو گيا كه يه جو آج دنيا كے هر ملك ميں محكمه انسداد بے رحميِ حيوانات اورتحفظ جنگلات كام كر رهے هيں، يه اسي  نبيِ رحمت كے ساز صد آهنگ كي صداے باز گشت هيں۔


 

 BACK

 

 

Designed & Hosted by Nabulae Web Services
Copyright 2002 - 07 AL JAMIATUL ASHRAFIA All rights reserved