Select Language  
Alumni Login
Password
Forgot Password
Alumni Sign UP
Your E-mail Address:

About University

Committee

Education

Syllabus

Libraries

Departments

Schools

Other Services

Help Us

Prince Of Wales Charlesبرطانوي ولي عهد شهزاده چارلس اپنے حاليه دوره تركي ميں صاحب مثنوي مولانا روم حضرت مولانا جلال الدين رومي كے مزارِ اقدس پر حاضري دي ۔ انھوں نے اس موقع پر استنبول كے مشاهير علما اور اربابِ تصوف كے ايك جم غفير سے خطاب كرتے هوئے حضرت مولاناے روم كي مثنوي معنوي اور اس كے روحاني اقدار كے اعتراف ميں كها كه ميں نے ذاتي طور پر اسلام كے نظريه تعليم، ، طرزِ ثقافت اور متصوفين كي تاريخ ساز زندگيوں كا بڑي گهرائي سے مطالعه كيا هے ۔ مولانا روم نے اپني مثنوي ميں افكار و خيالات اور حكمت و موعظت كے جو آفاق تلاش كيے هيں اس كے ذريعه سے انھوں نے عالمِ انسانيت كو زندگي كے آداب و اخلاق كے حوالے سے بے شمار  متاعِ گم شده عطا فرمائے هيں۔ مشرق كے ساتھ ساتھ مغرب نے بھي ان كے علوم و فنون كے فيضان سے براهِ راست مستفيد هونے كي كوشش كي هے ۔ شهزاده چارلس نے كها كه صوفياے كرام نے پر امن ماحول ميں ره كر اپني دقتِ نظر اور محنت كوشي كے ذريعه اپنے ايوانِ علم و عمل كو نكھارا هے۔ان كي زندگي كا هر گوشه عرفانِ الٰهي ، دعوتِ فكر اور هدايت كا سرچشمه هے ۔ انھوں نے اپنے موثر ترين اور سنجيده رويوں كے ذريعه سے مشرق و مغرب كے فاصلوں كو كم كر ديا هے ۔ ان كي منظم فكر ميں اعتدال، توازن اور انساني رويوں كا نماياں دخل رها هے اور وه اس جذبے كے ساتھ عوام و خواص سے مخاطب هوتے هيں۔ هميں بھي مشرق و مغرب كے مابين بعض فكري تضادات كے باوجود اعتدال و توازن پر زور دينا هوگا۔ انھوں نے كها كه هميں اپني زندگي كے ان معاملات كو ترجيح دينا هوگا جن ميں عمومي طور پر انساني مفادات كے عناصر موجود هوں۔ انھوں نے اس موقع پر ماحوليات كے بارے ميں بھي اظهارِ خيال كيا اور تمام معاشرتي سرگرميوں پر زور ديا كه وه اپنے دورِ جديد كي اخلاقي و تعليمي قدروں پر سخت نگاه ركھيں اور جائزه ليں كه انھوں نے كس طرح لوگوں كو گرد و پيش كے ماحول ميں زندگياں گزارنے كي اجازت دي هے۔ Prince Charlesنے ان دنوں ٫٫ڈچز آف كورن وال٬٬ كے ساتھ تركي كا دوره كر رهے هيں۔ مبصرين كا يه كهنا هے كه مولانا جلال الدين رومي كے مزار مقدس پر ان كي حاضري اور فكر انگيز بيانات سے پوري مسلم دنيا خصوصاً تركي كو يه پيغام ملے گا كه وه طريقه تصوف ، تاريخ انساني كي نشو ونما ميں صوفياے كرام كي تاب ناك زندگيوں كے آثار ، نيز اسلام كے چوده سو ساله تعليمي، تهذيبي اور تمدني ورثے كو باضابطه تسليم كر رهے هيں۔ عصر حاضر كے تناظر ميں اب يه همارے ليے ناگزير هے كه هم مغرب و مشرق كے نظرياتي تفاوت كے باوجود اس طرح كے سميناروں ميں اور ڈائلاگ كو اپروچ كريں كه جس كے ذريعه آپسي فاصلے كم كيے جا سكيں۔ مجھے يقين هے كه ايسي كوشش نتيجه خيز اور بر آور ثابت هوگي۔


ادھر كركٹر سے سياست داں بن جانے والے پاكستان كے عمران خاں كي سابق برٹش اهليه مشهور صنعت كار گولڈ اسمتھ كي بيٹي جمائما خاں نے اپنے ايك اهم بيان ميں كها هے كه مغرب، خصوصاً برطانيه ميں اسلام كو صرف ايك هي پهلو سے شناخت كيا جاتا هے جو كه درست نهيں هے۔ جب كه اس كے  برعكس حقيقت يه هے كه اسلام ميں عقائد اور مسالك كي ايك وسيع ورائٹي موجود هے اور مسلمانوں كے مابين ثقافتي بنيادوں پر انتهائي تنوع پايا جاتا هے۔ Sunday Telegraphلندن ميں شائع شده اپنے ايك مضمون ميں جمائما خاں نے گزشته دنوں ٫٫كيا اسلام لندن كے ليے اچھا هے؟٬٬ كے عنوان سے هونے والے ايك مباحثے ميں اپني شركت كا حواله ديا هے جس ميں شركاے اجلاس نے اسلام كي مخالفت اور حق ميں اپنے اپنے دلائل پيش كيے تھے۔جمائما نے اپنے طويل مضمون ميں لكھا هے كه اپنے دس ساله تجربے كے دوران جس ميں ميں نے ايك اسلامي ملك ﴿پاكستان﴾ ميں رهائش اختيار كي اور ديگر مسلم ممالك كے دورے كيے ، ميں نے دين اسلام كے اندر عقائد ، مسالك اور ثقافتي بنيادوں پر بهت زياده تنوع پايا هے ۔ اسلام صرف ايك هي   طرز فكر يا طرز عمل كا نام نهيں هے ۔ بلكه اس كے ماننے والے عقائد ، نظريات اور سوچ ميں ايك دوسرے سے كافي مختلف هيں اور اس حقيقت كو مغرب والے يا پھر اس كے ناقدين اكثر و بيش تر نظر انداز كر ديتے هيں۔ جمائما خاں نے جذباتي انداز ميں ايك سوال كے جواب ميں كها كه آپ اهلِ مغرب كس اسلام كي مخالفت كي بات كرتے هيں؟صوفي اسلام؟ جس كا رويه حد درجه محتاط معتدل اور امن پسند رها هے۔ بر صغير كا ثقافتي طور پر متاثر اسلام؟ تعليم يافته اور انتها پسند وهابي اسلام؟ يا عسكريت پسند جهادي اسلام؟ جمائما خاں نے آخر ميں كها كه اسلام ايك مكمل نظامِ زندگي اور آئينِ حيات هے ۔ لوگ اس سے كس قدر فائده حاصل كرنا يا پھر اپني زندگيوں ميں بسانا چاهتے هيں ، يه ان كي عاقبت انديشيوں اور طريقهكار پر منحصر هے ۔


اوپر كي سطر ميں قارئين نے يه محسوس كيا هوگا كه مغرب زده خاتون جمائما خاں وهابيت كے انتها پسندانه رويوں كا باضابطه علم ركھتي هيں۔ وهابي ازم اپني ذيلي تحريكي تنظيم٫٫تبليغي جماعت٬٬ كے ذريعه سعودي اور نجدي اعتقادات كو پوري دنيا ميں عام كرنے كي جس درجه كوشش كر رها هے وه مغربي ذرائع ابلاغ كي نظروں سے هر گز پوشيده نهيں، ملاحظه فرمائيں ڈيلي گراف لندن 11جولائي2007ئ كي رپورٹ:


The Daily Telegraph London, Wednesday, July 11, 2007


مذكوره اخبار ميں ساوتھ ايشيا كے معروف قلم كار Philip Johnstonلكھتے هيں:


"A global Islamic missionary group has emerged as a key influence on terrorists targeting Britain.


"Tablighi Jamaat" a powerful grass-roots religious organization based in south Asia' is a common link to a string of attacks and conspiracies. The group has a reputation for peaceful missionary work, going out to mosque to emphasis a reliance on the basic Teaching of the Quran. But it is increasingly being associated with radicalizing young Muslims.


"Tablighi Jamaat" was founded in Inda in 1927 by a cleric firm the DEWBANDI sect of Sunni Islam, for which the "Taliban" regime emerged 70 years Later."


مذكوره سطور كي روشني ميں يه بات بالكل واضح هو گئي كه مغربي اربابِ علم و دانش وهابي نظريات كي تبليغ و تشريح كے حوالے سے ديوبندي مشنري اور اس كے طريقهواردات سے كس قدر واقف هيں۔ خصوصاً امريكي اور برطانوي حكومتوں كو اچھي طرح معلوم هے كه اس پر امن چهرے اور سفيد پوشي كے پيچھے ايك پورا طوفانِ بلا خيز چھپا هے۔ سعودي عرب اپنے وهابي نظريه كي اشاعت ميں يهاں جس قدر پٹرو ڈالر خرچ كر رها هے ، مغربي حكومتيں اس پر سخت نظر ركھے هوئے هيں۔ يهي وجه هے كه گزشته ماه سعودي حكمراں سلطان عبد الله بن عبد العزيز كے دورهبرطانيه كے موقع پر حكومتي سطح سے اس طرح كے متعدد سوالات اٹھائے گئے ۔ 10ڈاوننگ اسٹريٹ لندن (10-Downing St. London, SWI)﴿برطانوي وزير اعظم كي رهائش گاه: The Official Home of the British Prime Minister﴾كے باهر بھي مقامي مسلمانوں اور سفيد فام انگريزوں كي كثير تعداد نے ٫٫وهابي انتها پسندي٬٬ كے خلاف پر جوش نعرے لگائے۔ورلڈ اسلامك مشن اور    اهلِ سنت كي ديگر اهم نمائنده تنظيموں نے برطانوي وزير اعظم كو خط لكھ كر باضابطه يه مطالبه كيا هے كه سعودي عرب پر دباوڈالے كه وه آثار نبوي اور باقياتِ صحابه كو منهدم كرنے سے باز رهے ۔ ساتھ هي جنت البقيع و   جنت المعليٰ ميں اهلِ بيت كرام اور صحابه و صحابيات كے مزارات مقدسه كواز سرِ نو تعمير كرے۔(United Nations)يونائٹيڈ نيشن كے چارٹر كے مطابق آثار قديمه (Heritage)كو توڑنا اور اس ميں كسي قسم كي تبديلي عالمي قوانين كي خلاف ورزي هے جس كا سعودي عرب بھي اصولي طور پر پابند هے  جس طرح دنيا بھر كي تاريخي عمارتوں كو تحفظ ديا گيا هے اسي Criteriaكي روشني ميں عهد رسالت كے تمام دستاويز، آثار اور عمارتوں كو اس كي اصلي حيثيت كے ساتھ محفوظ اور نگه داشت كرنا (Preservek Maintain)بھي عالمي برادري خصوصا (Unitaed Nation)كي ذمه داري هے:


"(UN) An international organisation to which over 190 countries now belong. The are some very important agreements produced by UN are the universal Declaration of Human Rights, the convention on the elimination of all forms of discrimination."


قارئين كو شايد ياد هوگا كه افغانستان ميں گوتم بدھ كے مجسمے كو طالبان كے هاتھوں توڑے جانے پر سب سے زياده يورپين يونين (EU)اور مغربي ممالك نے احتجاج كيا تھا۔ تاهم سعودي عرب ميں مقاماتِ مقدسه كي  بے حرمتي پر ان ممالك كي معني خيز خاموشي پورے عالمِ اسلام كے ليے كسي لمحهفكريه سے كم نهيں۔ هند و پاك كي نماياں ترين تنظيميں اور علمي مراكز اگر اب بھي متحد هو كر ايك "Pressure Group"تشكيل ديں اور به ذريعه مراسلت يورپي يونين، يونائٹيڈ نيشن اور برطانوي وزير اعظم پر پر امن مهذب لب و لهجے ميں دباوڈاليں تو ممكن هے اس ذريعے سے كچھ اميد افزا نتائج سامنے آئيں۔ مجھے يقين هے كه اس اهم ايشو كو موجوده صورتِ حال ميں حكومت برطانيه پس پشت نهيں ڈال سكتي، جب كه وه خود انتها پسندانه وهابيت كے تعاقب ميں سرگرم عمل هے۔اس باب ميں رضا اكيڈمي ممبئي، سني دعوت اسلامي ممبئي، آل انڈيا تبليغ سيرت ممبئي، دعوتِ اسلامي كراچي، الجامعۃ الاشرفيه مبارك پور، اور الجامعۃ الاسلاميه روناهي فيض آباد "Pressure Group"كي حيثيت سے نماياں ترين خدمات انجام دے سكتے هيں۔ انٹر نيٹ پر Emailكي سهوليات موجود هيں، عوام اهلِ سنت بھي انفرادي طور پر اپنے Wiew، Expressكر سكتے هيں۔


افسوس كه همارے اپنے جماعتي قائدين كا ربط و ضبط عالمي اداروں اور ميڈيا (International Media)سے تقريباً نه هونے كے برابر هے ۔ غالباً يهي وجه هے كه همارے جلسے جلوس اور بعض حساس مسائل پر احتجاج كي كوئي بازگشت مغربي ارباب بسط و كشاد تك پهنچ نهيں پاتي۔ همارے حلقوں ميں انعقاد پذير ٫٫ميڈيا سمينار٬٬ اسي وقت موثر هوں گے جب اس كا تعلق بين الاقوامي ثقافت و نشر كے ان اداروں سے هو جو اپنے اندر براه راست اثر و نفوذ كي صلاحيتيں ركھتے هيں:


"We must hold a strong political opinions and run campaigns to try and influence government policy and public opinions, as a result it is sometimes very difficult but we can try with a peaceful manner."


غير مسلم مغربي مفكرين اور ذرائع ابلاغ كسي حد تك اب اس بات كو سمجھ رهے هيں كه محض چند ايك نامعلوم شر پسند عناصر كے كرده گناهوں كي سزا پوري دنيا ميں بسنے والے عام اور اعتدال پسند مسلمانوں كو دينے كا اسلوب رواج پاتا جا رها هے۔ اعتدال پسند اور مثبت سوچ ركھنے والے مسلمانوں كا طبقه بھي دهشت گردي اور تشدد سے اتني هي نفرت كرتا هے جتني كه باقي مانده دنيا كرتي هے۔ مسلمان تو اس بات كے خواهاں هيں اور اس بات كي توقع كرتے هيں كه مغربي دنيا ان كے مذهب كے ساتھ ساتھ اپنے مذهب كو بھي مزيد عزت و تكريم دے۔ اسلام اور مسلم انتها پسندي كے درميان فرق كرنے كي صلاحيت جب مغرب كے پاس موجود هوگي تب هي مغربي دنيا اس قابل هو سكے گي جب كه وه دنيا ميں اعتدال پسند مسلمانوں كو كنارے لگانے اور دور كرنے سے اجتناب كرے۔ ابھي گزشته دنوں عيسائيوں كے بڑے ره نما پوپ بينيڈ كٹ نے اپنے ايك بيان ميں كها هے كه اقوامِ متحده اور ديگر بين الاقوامي تنظيميں دنيا كو زياده پر امن اور محفوظ جگه بنانے كي كوششوں ميں فطري اخلاقي قوانين اور اخلاقيات كو نظر انداز كر رهي هيں۔ انھوں نے عالمي اداروں پر    براهِ راست تنقيد كرتے هوئے كها كه موجوده صورت حال ميں    بين المذاهبي احترام اور سماجي اور اخلاقي ترجيحات كو زياده موثر اور قابلِ عمل بنانے كے ليے باهمي گفت و شنيد Delicacy، قوتِ برداشت اور نظريات كے احترام كي كوششوں كو يقيني بنانے كي ضرورت هے۔


ادھر پوپ بينيڈكٹ نے چوٹي كے مسلم ليڈروں كو دعوت دي هے كه وه ان سے اس خط پر بحث كريں جو انھوں نے اهم عيسائي ليڈروں كو گزشته ماه بھيجا تھا اور ان پر زور ديا تھا كه وه مشتركه اخلاقي قدروں اور ا س كي مضبوط بنياد كي تلاش كريں۔ 138چوٹي كے اهم مسلم ليڈروں نے يه خط گزشته ماه بھيجا تھا جس ميں كها گيا تھا كه تناواور آپسي غلط فهميوں كے موجوده دور ميں مسلمان اور عيسائي ايك خدا كے وجود پر ﴿يعني لا الٰه الا الله﴾ ايمان كو بنياد بنا كر مفاهمتي عمل شروع كريں۔ پوپ نے مسلمان ليڈروں كي مثبت فكر اور لائحهعمل كي سنجيدگي كو حد درجه سراها هے۔


مسلم ليڈروں كي طرف سے اگرچه پوپ كو اس حوالے سے انفرادي خطوط مختلف حلقوں سے ملتے رهتے هيں، تاهم يه پهلا موقع هے كه اتني بڑي تعداد ميں عيسائيوں كے سب سے بڑے مذهبي اور روحاني مركز ويٹيكن روم (Rome)ميں عيسائي اور مسلم ره نماوں كا اجتماع هوگا، جسے مغربي ذرائع ابلاغ خصوصاً اليكٹرانك ميڈيا، ريڈيو، ٹيلي ويژن  براه راست نشر كر رها هوگا۔ چرچ آف انگلينڈ (Church of England)كے ليڈر پوپ پر دباوبنائے هوئے هيں كه وه اس تاريخي موقع كو هر گز ضائع نه كريں۔ آرچ بشپ آف كنٹربري ڈاكٹر وليم (The Spritual Leader of the Church of England is the Archbishop of Canterbury)نے يهاں لندن ميں اس بات كي توقع ظاهر كي هے كه اس ملاقات سے ذهنوں كے فاصلے كم هوں گے اور جانبين سے بهت سارے شكوك و شبهات كا ازاله هوگا۔ اردن كے شهزاده غازي بن محمد طلال، جامعۃ الازهر كے مفتيِ اعظم اور عالم اسلام به شمول امريكه و برطانيه كے مقتدر ارباب علم و دانش كو پوپ نے خصوصي دعوت نامے كے ذريعه مدعو كيا هے۔ اس موقع پر مسلم مذهبي ره نما اور ويٹيكن كے عيسائي نمائندے اس نقصان كي تلافي بھي كرنا چاهيں گے جو پوپ كي متنازع تقرير سے هوا تھا ۔ اگرچه پوپ نے بعد ميں پوري دنيا كے مسلمانوں سے معذرت كر لي تھي۔ اس تقرير سے يه تاثر ملا تھا كه وه اسلام كا تعلق تشدد اور انتها پسندي سے جوڑ رهے هيں ۔ ياد رهے كه پوري دنيا ميں اس كا زبردست رد عمل هوا تھا ۔ اس طرح كا ردِ عمل يهاں كے سنجيده عيسائي انگريزي باشندوں اور ارباب حل و عقد كي جانب سے بھي آيا تھا۔ خدا كرے كه تلافي مافات كي يه كوشش كارگر اور نتيجه خيز هو  


مسلماں كو مسلماں كر ديا طوفانِ مغرب نے


تلاطم هاے دريا هي سے هے گوهر كي سيرابي


عطا مومن كو پھر درگاهِ حق سے هونے والا هے


شكوهِ تركماني، ذهنِ هندي، نطق اعرابي﴿اقبال﴾

 

 

 BACK

 

 

Designed & Hosted by Nabulae Web Services
Copyright 2002 - 07 AL JAMIATUL ASHRAFIA All rights reserved