Select Language  
Alumni Login
Password
Forgot Password
Alumni Sign UP
Your E-mail Address:

About Us

Committee

Education

Syllabus

Libraries

Departments

Schools

Other Services

Help Us

News

   اے زائر حرم !تجھے الوداعی سلام

یہ الم ناک خبر آپ سن چکے ہوں گے کہ حضور حافظ ملت کے فرزند اصغر حضرت قاری محمد عبد القادر جیلانی صاحب کا ۱۳؍ محرم الحرام ۱۴۳۲ ھ مطابق ۲۰؍دسمبر۲۰۱۰ء کو ممبئی میں انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت قاری صاحب زیارتِ حرمین طیبین سے واپس ہوئے تھے، سفر حج کے دوران گھر پہنچنے سے قبل ہی وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔حضرت جیلانی صاحب بیمار تو پہلے ہی سے چل رہے تھے صحت و بیماری انسانی زندگی میں صبح و شام کی طرح آتی جاتی رہتی ہیں۔ یہ وہم وخیال میں ہی نہیں تھا کہ قاری صاحب اتنی جلدی داغ مفارقت دے جائیں گے ۔وہ ایک صوفی منش، نیک سیرت، بلند اخلاق اور عبادت گزار شخص تھے، سنا ہے کہ وہ جوانی میں مضبوط اعضا اور گٹھیلے بدن کے دراز قد مرد توانا تھے، لیکن ادھر کافی دنوں سے بدلتے حالات کے تنائو اور بیماریوں نے انھیں نڈھال کردیا تھا اور دیکھنے سے اپنی عمر سے بڑے معلوم ہوتے تھے، انھوں نے اپنی زندگی خودداری اورصبر و شکر کے ساتھ گزاری،صبرو قناعت کا یہ توشہ انھیں اپنے پدر بزرگوار سے ورثے میں ملاتھا ان کی عادت و خصلت اور رہن سہن میں حضور حافظ ملت کی جھلک نظر آتی تھی۔ ہم لوگ ان کی محفل میں حافظ ملت کی باتیں خوب مزے لے لے کر سنتے تھے، وہ عزم وہمت میں دبنگ ہونے کے باوجود انتہائی متواضع اور منکسر المزاج تھے۔ یوں تو وہ ابتدائی عمر سے ہی صوم وصلاۃ کے پابند تھے مگر عہدآخر میں ان کی عبادتوں میں کیف بڑھ گیا تھا ادھر کئی برسوں سے ان کے دروں میں عشق رسول کا سوز بھی فزوں تر نظر آرہا تھا،برسوں سے حج و زیارت کے لیے بے چین تھے۔ مگر ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ۔انھوں نے خاموشی سے امسال حج کمیٹی کا فارم بھرا، منظوری نہیں آئی تو ممبئی سے ٹور والوں سے رابطہ کیا اور قاری اسلام اللہ عزیزی صاحب کے توسط سے سفر حج و زیارت کے تمام مسائل حل ہوگئے، طے شدہ تاریخ پر بھوج پور سے ممبئی جانا تھا مگر جیلانی صاحب سفر حج پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے پدر پزرگوار حضور حافظ ملت نور اللہ مرقدہ کے مزار پر حاضری دینے کے لیے مبارک پور تشریف لائے، مگر پیر زادوں جیسی کرو فر کے ساتھ نہیں بلکہ درد مند دل اور اشک بار آنکھوں سے فاتحہ پڑھی ،اپنے عزیزوں اور چند احباب سے ملاقات کی اور خاموشی سے رخصت ہوگئے۔عام طور پر ملاقاتوں میں انھوں نے اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا کہ انھیں چندروز میں سفر حج و زیارت کے لیے نکلنا ہے۔ در اصل ان کا یہ سفر سفرِ حج بھی تھا اور سفرِ آخرت بھی ،اور سفر آخرت پر جانے والے چرچے کہاں کرتے ہیں، مسافران آخرت کا زاد سفر تو ان کے جانے سے پہلے ہی پہنچ جاتا ہے۔ ہاں ان کی بے قرار تمنا اور آخری آرزو یہ تھی کہ یہ سفر مدینے کے رہ گزر سے ہو، اور جب قبر و حشر میں پہنچوں تو مدینے والے کے نام سے پہچانا جاؤں، بارگاہِ الٰہی میں فرشتے بس ایک بار کہہ دیں یہ آنے والاکوچۂ حبیب سے آیا ہے۔ وہ ۱۹؍ دسمبر ۲۰۱۰ء کو شام ۴؍ بجے ممبئی ائیر پورٹ پہنچے جناب فیضان عزیزی صاحب نے انھیں رسیو کیااور اعزاز و اکرام کے ساتھ گھر لے آئے، نقاہت پہلے ہی سے تھی، مدینہ طیبہ کی سرزمین میں بخار بھی ہوگیا تھا اسی عالم میں سرورِ کونین مدنی تاجدار ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں بار بار حاضری دی ،اپنی شفاعت کا پروانہ حاصل کیا اور جان و دل ہوش و خرد سب مدینہ چھوڑ کر ہندوستان چلے آئے، اور اپنے وطن بھوج پور پہنچنے سے قبل ہی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی، یعنی جسدِ خاکی جاے خمیر میں رہ گیا اورروح پھر مدینہ پہنچ گئی، یہ عشق کی سرفرازی ہے حج مبرور کی علامت ہے۔ سفر مدینہ کی مقبولیت ہے۔ حاجی حج کے بعد ایسا ہو جاتا ہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا۔ میرا وجدان بولتا ہے حضرت جیلانی صاحب جیسے صاف ستھرے مہد میں آئے ویسے ہی آغوش لحد میں پہنچے، ہاں قبر میں اندھیری رات سنی تھی اس لیے عشق رسول کا روشن چراغ لے کر گئے۔
لحد میں عشقِ رخِ شہ کا داغ لے کے چلے

 اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
حضرت قاری عبد القاری جیلانی صاحب جب بمبئی پہنچے تو ان کے بڑے بھائی عزیز ملت حضرت علامہ شاہ عبد الحفیظ صاحب سربراہِ اعلیٰ جامعہ اشرفیہ مبارک پور پہلے سے ممبئی میں موجود تھے، انھیں کسی دوکان کے افتتاح کے لیے جانا تھا اس لیے بر وقت اپنے بھائی سے ملاقات نہ کر سکے۔دیر گئے رات میں جب حضرت عزیز ملت شہید اعظم کانفرنس سے واپس تشریف لائے تو قاری صاحب دوا کھا کر سوچکے تھے، جناب فیضان عزیزی صاحب نے حضرت کو بتایا کہ قاری صاحب کے پیٹ میں تکلیف تھی ڈاکٹر صاحب کو بلا کر دوا دلوادی اب وہ سو چکے ہیں۔ صبح انشاء اللہ ان کا چیک اپ کرایا جائے گا ، قاری صاحب کا قیام اپنی اہلیہ کے ساتھ جناب عبد العلی عزیزی صاحب کے گھر بالائی منزل پر تھا اور حضرت عزیز ملت کا قیام نیچے آفس میں تھا، جناب فیضان عزیزی صاحب نے قریب ۸؍ بجے صبح آکر حضرت کو بتایا کہ قاری صاحب کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔ خیر حضرت عزیز ملت ان کے روم میں تشریف لےگئے، پڑھ پڑھ کر دم کرتے رہے۔ ہاتھ پیر ٹھنڈے ہورہے تھے، نبض بھی ڈوب سی گئی تھی، اس دوران ڈاکٹر صاحب بھی آچکے تھے، اپنے اعتبار سے وہ دیکھتے رہے اتنے میں فیضان صاحب نے دوسرے ڈاکٹر کو بلالیا، اب دونوں ڈاکٹروں نے ایک ہی بات کہی کہ حضرت قاری صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے۔تاہم مزید اطمینان کے لیے انھیں ہاسپیٹل لے جایا جا سکتا ہے۔ پورا ماحول سوگوار اور آہ و بکا میں ڈوب گیا۔ فیضان عزیزی صاحب نے ممبئی، بھوج پور اور مبارک پور کے احباب و متعلقین کو یہ افسوس ناک خبر دی، ہر طرف غم کی لہر دوڑ گئی، اب مسئلہ تھا ان کے جسد خاکی کو بھوج پور لانے کا، جناب عبد العلی عزیزی دہلی میں تھے لیکن انھوں نے وہیں رہ کراپنے فرزند فیضان عزیزی کی مسلسل رہنمائی کی، جناب قاری شرف الدین مصباحی، جناب بشیر احمد اور محمد بھائی وغیرہ حضرات نے قانونی کارروائی کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی، لاش فلائٹ سے لے جانے کے لیے بڑے مشکل مراحل سے گزرنا پڑتا ہےلیکن بہ فیض حضور حافظ ملت سارے مسائل حل ہو گئے اور حضرت عزیز ملت، قاری صاحب کے جسد خاکی کو لے کر قریب گیارہ بجے دہلی ایر پورٹ پہنچے، وہاں پہلے سے جناب عبد العلی عزیزی اور ان کے احباب ایمبولنس لے کر موجود تھے، بھوج پور سے حضرت کے بھانجے جناب اعجاز احمد عزیزی بھی پہنچ گئے تھے، غموں کی سوغات لے کر یہ قافلہ قریب پانچ بجے صبح حضور حافظ ملت کے آبائی وطن بھوج پور مراد آباد پہنچا، وہاں پہلے ہی پورا خاندان ماتم کدہ بنا ہوا تھا، اعزہ و اقارب بھی پہنچ چکے تھے، حضرت عزیز ملت کے تینوں صاحب زادگان اپنی والدہ اور بہنوں کولے کر مبارک پور سے بھوج پور قریب تین بجے شب پہنچ چکے تھے۔
انتقال کی خبر سن کر جامعہ اشرفیہ اور اہل سنت کے درجنوں مدارس میں تعطیل کا اعلان ہوچکا تھا، قرآن خوانی اور ایصال ثواب کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا، ہم لوگوں نے اولین فرصت میں ریزرویشن کرایا، ہماری ٹرین بنارس سے بشب آٹھ بجے تھی، ہمارے قافلے میں شیخ الجامعہ حضرت علامہ محمد احمد مصباحی، جامعہ اشرفیہ کے نائب صدر صوفی نظام الدین مبارک پوری، حضرت مفتی زاہد علی سلامی، اور ذیشان مصباحی مرادآبادی تھے، جب کہ مبارک پور سے خاصے حضرات دیگر ٹرینوں سے جاچکے تھے، صبح چھ بجے ہم لوگ مرادآباد پہنچے مسافر خانے والی مسجد میں نماز فجر ادا کی اور قریب ۷؍ بجے بھوج پور کاشانہ حافظ ملت پر پہنچ گئے، ہر طرف غموں کے بادل چھائے ہوئے تھے، چہرے سب شناسا تھے مگر اجنبی اجنبی سے، ہر طرف اعلان ہو چکا تھا کہ نماز جنازہ بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی، قریب دس بجے مولانا محمد حنیف مصباحی اور مولانا محمد اشتیاق مصباحی ہمیں جامعہ فاروقیہ عزیز العلوم لے گئے، وہاں صبح ہی سے طلبہ تلاوت قرآن عظیم میں مصروف تھے، ہم لوگ پہنچے تو شیخ الجامعہ حضرت مولانا خورشید احمد مصباحی، مولانا اشفاق حسین مصباحی، جامعہ کے صدر جناب حاجی فاروق احمد (بابوجی) جناب ماسٹر عبد الستار صاحب اور باقی تمام اساتذہ بھی بزم ایصال ثواب میں پہنچ گئے، حاضرین کے اصرارپر راقم نے کچھ دیر حضرت جیلانی صاحب کی حیات و شخصیت پر روشنی ڈالی، قل شریف ہوا اور مفتی زاہد علی سلامی صاحب نے ایصال ثواب اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
نماز ظہر کے بعد قریب ڈھائی بجے جنازہ گھر سے نکلا دور تک سر ہی سر نظر آرہے تھے، علاقے بھر سے علما اور ائمہ حضرات بھی بڑی تعداد میں شریک تھے، ساڑھے تین بجے جانشین حافظ ملت حضرت عزیز ملت دام ظلہ العالی نے نماز جنازہ پڑھائی اور بھوج پور کے قبرستان حضرت زین اللہ شاہ میں انھیں سپرد خاک کیا گیا، نماز جنازہ میں شریک علما میں کچھ کا ذکر آپ پڑھ چکے ہیں۔ مزید چند اہم نام یہ ہیں۔ مفتی ایاز احمد مصباحی دار العلوم قادریہ پونے، قاری محمد راحیل ٹھاکر دوارہ، مولانا محمد اسلم مدرسہ زاہدی رضوی، پیپل سانہ، قاری احمد علی پیپل سانہ، قاری عتیق احمد پیپل سانہ، مولانا محمد عاقل رضوی ناظمِ تعلیمات مرکز اہل سنت مدرسہ منظر اسلام بریلی شریف ،پیر طریقت مولانا راشد میاں آسوی ملک رام پور، قاری محمد عثمان معصوم پور، مولانا محبوب مصباحی استاذ مدرسہ فیض العلوم سراے ترین سنبھل، مولانا محمد قاسم استاذ جامعہ اکرم العلوم لال مسجد مراد آباد، مولانا کمال الدین کاشی پور، مولانا یامین مصباحی مدرسہ بشیریہ بھوج پور، مولانا انصاف مصباحی مدرسہ تعلیم القرآن بھوج پور، محمد عمر مدرسہ فیض الرسول بھوج پور، وغیرہ۔
حضرت محمد عبد القادر جیلانی صاحب کی موت کئی جہتوں سے شہادت و سعادت سے سرفراز ہوئی۔ بحالتِ سفر موت بھی شہادت ہے اور بخار زدہ کی موت بھی شہادت ہے۔ حضرت قاری صاحب مسافر بھی تھے اور بخار زدہ بھی۔ مزید بر آں آقا علیہ السلام فرماتے ہیں: »حج كم زوروں كے ليے جهاد هے۔« (سنن ابن ماجه، ج:۳، ص:۴۱۴)
قاری صاحب سفرِ حج سے قبل بھی انتہائی کم زور تھے، اس طرح گویا انھیں حالتِ جہاد میں موت آئی اور حالتِ جہاد کی موت بلا شبہہ شہادت ہے۔ اس طرح سفرِ حج کے دوران موت کے بے شمار فضائل احادیث نبویہ میں وارد ہوئے ہیں۔ ہم صرف ایک حدیث نقل کرتے ہیں:
طبرانی و ابو یعلی و دار قطنی و بیہقی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: »جو اس راه ميں حج يا عمره كے ليے نكلا اور انتقال هو گيا، اس كي پيشي نهيں هوگي، نه حساب هوگا اور اس سے كها جائے گا تو جنت ميں داخل هو جا۔« (المعجم الاوسط، ج:۳، ص:۱۱۱)
یہ سچ ہے کہ حضور حافظ ملت کے لخت جگر قاری محمد عبد القادر جیلانی اب ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کی یادیں اور باتیں ہمیشہ باقی رہیں گی۔ قاری صاحب کی پیدائش وطن مالوف بھوج پور ضلع مراد آبادمیں ہوئی۔ تاریخِ ولادت حضرت حافظ ملت نے اس طرح تحریر فرمائی ہے: »تاريخِ ولادت نور چشم محمد عبد القادر سلمه ۱۳؍ ربيع الثاني بوقت نمازِ جمعه ۱۳۷۱ھ«۔ قاری صاحب کے احباب ڈاکٹر شفیق احمد بھوج پوری اور حاجی محمد ادریس عزیزی بھوج پوری نے بتایا کہ ابتدائی عمر میں برادرِحافظِ ملت حکیم عبد الغفور علیہ الرحمہ نے انھیں گود لے لیا تھا۔ حکیم صاحب ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کی ہر خواہش اور ہر ضد پوری کرتے تھے۔ مطب میں مغزیات کی فراوانی ہوتی ہے۔ جیلانی صاحب کو بالکل چھوٹ تھی، وہ جو چاہیں لیں اور جو چاہیں کھائیں۔ نوجوانی میں صحت مند اور فٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے۔ پھر حافظِ ملت انھیں مبارک پور تعلیم کے لیے لے آئے۔ بسڈیلہ ضلع بستی میں مدرسہ تدریس الاسلام ہے، اس وقت وہاں محدث جلیل علامہ عبد الشکور مصباحی مدرس تھے۔ حضرت نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے وہاں بھیج دیا۔ مدرسہ تدریس الاسلام میں قاری صاحب نے ابتدائی درس نظامی کی تعلیم حاصل کی مگر زیادہ دنوں ٹھہر نہ سکے۔
۱۹۶۷ء میں آپ قراءت حفص پڑھنے کے لیے مدرسہ تجوید القرآن دریائی ٹولہ لکھنؤ تشریف لے گئے۔ اس ادارے کے بانی و صدر جناب سیٹھ فقیر محمد تمباکو والے تھے۔اس وقت ادارے کے شیخ التجوید امام القرا حضرت قاری محب الدین علیہ الرحمہ تھے۔ ان کے صاحب زادے استاذ القرا حضرت قاری احمد ضیا ازہری علیہ الرحمہ جامع ازہر مصر سے قراءت پڑھ کر آئے تھے۔ قاری عبد القادر جیلانی مرحوم نے حضرت قاری محب الدین علیہ الرحمہ سے بھی استفادہ کیا، لیکن باضابطہ حضرت قاری احمد ضیا ازہری علیہ الرحمہ سے قراءت حفص کی کتابیں پڑھیں اور مشق قاری حبیب الرحمٰن لکھنوی سے کرتے تھے۔ ان دنوں جامعہ اشرفیہ کے استاذ حضرت مولانا قاری نور الحق مصباحی مبارک پوری بھی وہاں قراءت سبعہ پڑھتے تھے، اور مشک گنج والی مسجد میں امامت کرتے تھے، قاری جیلانی صاحب بھی انھیں کے ساتھ مسجد کے حجرے میں رہتے تھے۔ قاری جیلانی صاحب نے ایک سال میں باضابطہ قراءت حفص مکمل کی، آواز بلند اور شیریں تھی، فن تجوید پر عبور کے ساتھ خوش الحان اور مشاق بھی تھے۔ قاری نور الحق مصباحی صاحب نے بیان کیا کہ جیلانی صاحب لکھنؤ میں اپنے اساتذہ کے معتمد اور منظور نظر تھے۔ قاری محب الدین اور قاری احمد ضیا ازہری علیہما الرحمہ ان سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور ان کی تعلیم و تربیت کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔
قاری صاحب فراغت کے بعد تجارت سے جڑ گئے۔اعزازی طور پر جامعہ فاروقیہ وغیرہ میں درس دیا، جامعہ اشرفیہ مبارک پور ان کی محبتوں کا محور تھا۔ اس کی خیر خواہی میں انھوں نے بہت کچھ کیا۔ ادھر چند برسوں سے وہ جامعہ فاروقیہ عزیز العلوم بھوج پور کے سربراہِ اعلیٰ کے منصب پر بھی فائز تھے۔ اس کے لیے ممبئی وغیرہ سے تعاون بھی کراتے تھے، انھیں اس حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا۔قاری صاحب نے پس ماندگان میں اپنی اہلیہ اور چھ بچوں کو چھوڑا ہے۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹے محمد شمیم احمد رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو چکے ہیں۔ ایک بچی اور دو بچے زیر تعلیم ہیں۔ محمد شہیم بی کام کر رہے ہیں، اور محمد تنویر حافظ قرآن ہیں ، اس وقت جامعہ فاروقیہ بھوج پور میں درس نظامی پڑھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان تمام کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور غیب سے ان کی مدد فرمائے اور تمام پس ماندگان اور اعزہ و اقارب کو صبر و شکر کی توفیق رفیق عطا فرمائ
ے۔٭٭٭

واپس


 

 

Designed & Hosted by Nabulae Web Services
Copyright 2002 - 07 AL JAMIATUL ASHRAFIA All rights reserved